بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں قابض انتظامیہ نے سرینگر کی مشہور درگاہ حضرت بل کے احاطے میں موریہ خاندان کے آخری عظیم حکمران اشوکا کا نشان نصب کر دیا، جس پر شدید تنازع کھڑا ہو گیا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مقبوضہ کشمیر وقف بورڈ کی چیئرپرسن درخشاں اندرابی نے جھیل ڈل کے کنارے واقع اس درگاہ کی تزئین و آرائش کے منصوبے کا افتتاح کیا، جہاں حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کا موئے مقدس محفوظ ہے۔
اطلاعات کے مطابق درگاہ کے صحن میں نصب کیے گئے بورڈ کے اوپر اشوکا کا نشان بھی شامل کیا گیا تھا۔ گزشتہ روز نمازِ جمعہ کی ادائیگی کے لیے آنے والے کشمیری مسلمان یہ نشان دیکھ کر برہم ہو گئے اور اسے اکھاڑ کر توڑ دیا۔
موقع پر نمازیوں نے سخت غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے اس اقدام کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق نیشنل کانفرنس کے رہنما تنویر صادق نے ایکس پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ درگاہ میں اشوکا کا نشان لگانا توحید کے بنیادی اسلامی عقیدے سے متصادم ہے۔ ان کے مطابق یہ اقدام بلاجواز ہے اور مجسمہ سازی کے زمرے میں آتا ہے، جو اسلام کی بنیادی تعلیمات کے
خلاف ہے۔
