نیویارک: بھارت کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس سے خطاب میں یوکرین اور غزہ میں جاری جنگوں کو ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے عالمی امن کے قیام کے لیے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
عالمی میڈیا رپورٹس کےمطابق بھارتی وزیر خارجہ نے کہا کہ اقوام متحدہ بحران کی کیفیت میں ہے اور عالمی ادارے میں فوری اصلاحات وقت کی ضرورت ہیں۔
جے شنکر نے کہا کہ تنازعات، بالخصوص غزہ اور یوکرین ان ممالک کو بھی متاثر کر رہے ہیں جو براہِ راست اس میں شامل نہیں ہیں، ایسے میں وہ ممالک جو سب سے رابطہ رکھ سکتے ہیں، انہیں حل کے لیے آگے بڑھنا ہوگا، بھارت دشمنیوں کے خاتمے اور کسی بھی امن بحالی کی کوشش کی حمایت کرے گا۔
بھارتی وزیر خارجہ نے اپنے خطاب میں امریکا کی جانب سے بھارتی برآمدات پر 50 فیصد تک ٹیرف عائد کرنے کے فیصلے اور عالمی تجارتی دباؤ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دنیا اب ’’مارکیٹ تک غیر یقینی رسائی ٹیکنالوجی پر کنٹرول اور سپلائی چین پر گرفت جیسے مسائل سے دوچار ہے، ڈی رسکنگ ایک ناگزیر ضرورت بنتی جارہی ہے کیونکہ کسی ایک منبع پر انحصار خطرناک ہے۔
جے شنکر نے موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے عالمی پیش رفت کو ’’مایوس کن‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر ماحولیاتی اقدامات ہی متنازع بن جائیں تو پھر ماحولیاتی انصاف کی امید کیسے کی جا سکتی ہے؟
انہوں نے اقوام متحدہ میں اصلاحات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اصلاحات کی مزاحمت ہی اس عالمی ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہی ہے۔
خیال رہےکہ اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی جارحیت میں اب تک 65 ہزار 926 فلسطینی شہید ہوچکے ہیں، جن میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔
یاد رہےکہ غزہ میں امریکا اور اسرائیل امداد کے نام پر دہشت گردی کر رہے ہیں۔ قابض فوجیں محصور عوام کو بنیادی ضروریات سے محروم رکھ کر قحط، بھوک اور بیماری کو بطور ہتھیار استعمال کر رہی ہیں جبکہ عالمی ادارے اور مغربی طاقتیں اس پر مجرمانہ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔
