ہانگ کانگ کے ضلع تائی پو میں واقع رہائشی کمپلیکس وانگ فک کورٹ ہاؤسنگ اسٹیٹ میں لگنے والی تباہ کن آگ کو تقریباً 40 گھنٹوں کی مسلسل جدوجہد کے بعد بجھایا تو گیا، تاہم اس المناک سانحے میں جاں بحق افراد کی تعداد بڑھ کر 128 ہو گئی ہے جبکہ متعدد افراد تاحال لاپتا ہیں۔
جمعے کے روز بھی امدادی ٹیمیں تباہ شدہ بلاکس کے اندر سرچ آپریشن میں مصروف رہیں اور اسی دوران رشتے دار اسپتالوں اور ایمرجنسی مراکز کے چکر کاٹتے رہے تاکہ اپنے پیاروں کی کوئی اطلاع مل سکے۔
یہ آگ بدھ کی دوپہر اس وقت شروع ہوئی جب 36 منزلہ رہائشی عمارتوں پر مشتمل آٹھ بلاکس میں شعلے نہایت رفتار سے پھیل گئے اور دیکھتے ہی دیکھتے پوری اسٹیٹ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ تیز آتش گیر مواد اور عمارتوں کے درمیان موجود بانس کی تعمیراتی ساخت نے شعلوں کے پھیلنے میں اہم کردار ادا کیا۔
حکام نے بتایا کہ واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے، جو مرمتی کام کے دوران استعمال ہونے والے بانس، پلاسٹک شیٹس اور حفاظتی مواد کے معیار کا تفصیلی جائزہ لے رہی ہے۔ ابتدائی تحقیقات کے دوران تین افراد کو حفاظتی سامان غلط طریقے سے ہٹانے کے الزام میں گرفتار بھی کیا گیا ہے۔
ریسکیو ٹیموں نے ملبے سے مزید لاشیں نکالی ہیں جبکہ 50 سے زائد زخمی مختلف اسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں، جن میں 12 افراد کی حالت نہایت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
عینی شاہدین کے مطابق آگ چند منٹوں میں ایک بلاک سے دوسرے میں منتقل ہوئی، جس کی وجہ سے لوگوں کو فرار کا موقع بہت کم ملا۔
یہ حادثہ 1948 کے بعد ہانگ کانگ کی تاریخ کا سب سے ہلاکت خیز سانحہ قرار دیا جا رہا ہے۔ شہریوں نے شکایت کی کہ فائر الارم نے بروقت کام نہیں کیا، جس کے باعث لوگوں نے ایک دوسرے کو دروازے کھٹکھٹا کر خبردار کیا۔
حکومت نے متاثرہ خاندانوں کے لیے 300 ملین ہانگ کانگ ڈالر کا امدادی فنڈ قائم کرنے، 9 عارضی رہائش گاہیں فراہم کرنے اور بڑے تعمیراتی منصوبوں میں بانس کی جگہ آہنی اسٹافولڈنگ استعمال کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے، تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کا سدباب کیا جا سکے۔
