English Al Qamar Urdu جون 26, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

دہلی دھماکے: مسلم کمیونٹی کوبدنام نہ کیاجائے،جماعت اسلامی ہند

القمر

نئی دہلی:جماعت اسلامی ہند نے کہا ہے کہ دہلی دھماکے کی آڑ میں مسلم کمیونٹی کو بدنام کرنا بند کیا جائے۔

 جماعت اسلامی ہندکے امیر سید سعادت اللہ حسینی نے اپنے ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ہر طرح کی انتہاپسندی اور تشدد کی دوٹوک مذمت دہراتے ہوئے متعدد قومی مسائل پر گہری تشویش ظاہر کی، جن پر فوری حکومتی توجہ درکار ہے۔

دہلی دھماکے پر امیر جماعت اسلامی ہند سید سعادت اللہ حسینی نے کہا کہ ہم اس وحشیانہ حملے کی سخت مذمت کرتے ہیں جس میں بے گناہ جانیں ضائع ہوئیں۔

 جماعت ہر قسم کی انتہاپسندی، تشدد اور دہشت گردی کی شدید مذمت کرتی ہے خواہ مجرم کوئی بھی ہو اور اس کا مقصد کچھ بھی ہو۔

 انہوں نے کہا کہ خودکش حملے اور بڑے پیمانے پر تشدد انسانی احترام، اخلاق اور تہذیب کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی ہیں۔ ہر شہری اور ادارے کو دہشت گردی کی مخالفت میں مضبوطی سے کھڑا ہونا چاہیے۔

انہوں نے لال قلعہ میں ہوئے دھماکے اور حال ہی میں سرینگر کے نوگام پولیس اسٹیشن میں ہوئے بارودی دھماکے سے ظاہر ہونے والی سنگین سیکورٹی خامیوں پر تشویش ظاہر کی۔ ان واقعات میں 9 لوگ جاں بحق اور کئی زخمی ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ حادثے سیکورٹی نظام میں جاری کمزوریوں کی واضح علامت ہیں۔

ساتھ ہی انہوں نے میڈیا کی جانب سے کسی ایک کمیونٹی(مسلم) کو بدنام کرنے کے رویے پر بھی افسوس ظاہر کیا اور کہا کہ ایسے بیانات سماج میں انتشار پیدا کرتے ہیں اور دہشت گردوں کے مقصد کو تقویت دیتے ہیں۔

فضائی آلودگی کے شدید بحران پر حسینی نے عارضی اقدامات کے بجائے ملک گیر سائنسی بنیادوں پر مستقل شفاف ہوا کی حکمت عملی اپنانے کی اپیل کی۔

 انہوں نے کہا کہ مرکز اور ریاستیں مل کر ایکشن لیں، انڈسٹری اور وہیکلز کے قوانین سختی سے نافذ کیے جائیں، کسانوں کو فصل کے باقیات جلانے کے متبادل بہتر حل دیے جائیں اور صاف پبلک ٹرانسپورٹ کو فروغ دیا جائے تاکہ عوام کی صحت اور روزگار محفوظ رہ سکے۔

وقف رجسٹریشن کے معاملے پر انہوں نے بتایا کہ جماعت اسلامی ہند نے ایک سینٹرل وقف ہیلپ ڈیسک اور اسٹیٹ وقف سیل قائم کیا ہے۔

اس میں تقریباً 150 تربیت یافتہ رضاکار، ورکشاپ، ہیلپ لائن اور فیلڈ میں تعاون کا انتظام ہے تاکہ متولیوں کو امید پورٹل پر اپ لوڈ مکمل کرنے میں مدد دی جا سکے۔

 انہوں نے حکومت سے رجسٹریشن کی مدت بڑھانے اور پورٹل کی تکنیکی خامیوں کو فوری طور پر درست کرنے کا مطالبہ کیا تاکہ سسٹم کی ناکامی کی وجہ سے کسی وقف جائداد کو نقصان نہ پہنچے۔

 انہوں نے وقف ترمیمی ایکٹ کے حوالے سے جماعت اسلامی ہند کے اصولی اعتراض کو دوہرایا اور کہا کہ یہ ایکٹ اقلیتوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے اور آئینی اخلاقیات کے منافی ہے۔

ایس آئی آر پر سعادت اللہ حسینی نے بتایا کہ بی ایل اوز پر غیرمعمولی بوجھ، اموات، شدید ذہنی دبائو اور عمل میں شفافیت کی کمی کے بارے میں رپورٹیں تشویش ناک ہیں۔

جماعت کا مطالبہ ہے کہ الیکشن کمیشن ایس آئی آر کی حد واضح کرے (یہ شہریت جانچ مہم نہیں ہے)، اسٹاف بڑھائے، ٹائم لائن میں توسیع دے، فیلڈ عملہ کے لیے ذہنی صحت اور طبی سہولتیں فراہم کرے اور آزاد نگرانی کے ساتھ شفاف شکایت نظام قائم کرے۔

پریس کانفرنس سے جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر پروفیسر سلیم انجینئر اور ملک معتصم خان نے بھی خطاب کیا۔

  • ویب ڈیسک
  • Faiz alam babar

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے