اسلام آباد میں اقوام متحدہ کے زیر اہتمام صنفی بنیاد پر تشدد کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیرِ قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ خواتین کی ہراسانی خصوصاً ڈیجیٹل بدسلوکی ایک بڑھتا ہوا چیلنج ہے، اور ہم متاثرہ خواتین کی اصل مشکلات کا مکمل اندازہ نہیں لگا سکتے۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ جدید ٹیکنالوجی نے زندگی کو آسان بنایا ہے، لیکن اسی نے ہراسانی کے نئے راستے بھی کھول دیے ہیں جن کا نشانہ سب سے زیادہ خواتین بنتی ہیں۔
وزیر قانون نے بتایا کہ پاکستان نے ہراسانی کے مسئلے پر پہلے کے مقابلے میں بہتر کنٹرول حاصل کیا ہے، تاہم عدالتی سطح پر ملزمان کو سزا دلوانے کی شرح ابھی تک تسلی بخش نہیں ہے ، اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ زیادہ افسوس اس وقت ہوتا ہے جب واضح ثبوت موجود ہونے کے باوجود ’’شک کا فائدہ‘‘ ملزمان کو مل جاتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ڈیجیٹل ہراسانی کے خلاف پاکستان نے خصوصی موبائل ایپلیکیشن متعارف کرائی ہے تاکہ متاثرہ خواتین فوری قانونی مدد حاصل کر سکیں، اور یہ کہ ریاست ان کے لیے تمام قانونی راستے فراہم کرتی ہے۔
