اسلام آباد:جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ 27 ویں آئینی ترمیم میں کی گئی غلطیوں کو واپس لے کر آئین کو درست کیا جائے۔
پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ پارلیمنٹ ایک ایسا فورم ہے جہاں مشاورت سے معاملات حل کرنے چاہئیں، لیکن 27 ویں ترمیم میں یہ عمل مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا۔
مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ یہ ترمیم آئین کے ٹائٹل پر زخم کی مانند ہے اور سیاسی لحاظ سے اس میں بہت بونا پن نظر آتا ہے، اس میں جمہوری تقاضے پورے کیے گئے اور اتفاق رائے حاصل کیا گیا، لیکن 27 ویں ترمیم کے لیے یہ سہولیات موجود نہیں تھیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ کچھ مراعات مخصوص شخصیات کو دی گئیں، جس سے طبقاتی فرق پیدا ہوا، تاہم مسئلہ شخصیات یا منصب کا نہیں بلکہ آئینی غلطیوں کا ہے ، جن کے تحت 18 سال قبل کے شرعی نکاح کو جنسی زیادتی کے زمرے میں شامل کیا گیا، جبکہ بچے جائز رہیں گے۔
انہوں نے کہا کہ مغربی ممالک کی تقلید کے بجائے آئین اور شریعت کی روشنی میں فیصلے کرنے چاہئیں اور آئینی غلطیوں کو فوری طور پر درست کیا جائے۔
