اتراکھنڈ: دنیا کا نمبر ون تواہم پرست دیش بھارت میں عجیب و غریب واقعات معمول ہیں ،تازہ واقعے میں 7 بیٹیوں نے باپ کا جنازہ اٹھایا۔
قدامت پسندی کی تمام روایات کی خلاف ورزی کرنے والا ایک جذباتی اور متاثر کن واقعہ پتھورا گڑھ کے سرحدی ضلع میں گنگولی ہاٹ تحصیل ہیڈکوارٹر کے قریب سمل کوٹ گائوں میں سامنے آیا ہے۔
بتایا گیا ہے کہ یہاں 7 بیٹیوں نے نہ صرف اپنے باپ کا جنازہ اٹھایا اور اس کی موت کے بعد جنازے کی قیادت کی بلکہ شمشان گھاٹ پر جنازے کو روشن کرکے بیٹوں کے طور پر اپنا فرض بھی پورا کیا۔
گنگولی ہاٹ تحصیل ہیڈکوارٹر سے تقریباً آٹھ کلومیٹر دور سمل کوٹ گرام پنچایت کے گائوں اوکالا کے ایک سابق فوجی کشن کنیال اچانک بیمار ہو گئے۔
اس کے بعد خاندان والے انہیں گنگولی ہاٹ کے کمیونٹی ہیلتھ سینٹر لے گئے، جہاں کشن کنیال کی حالت بگڑ گئی اور انہیں ہلدوانی کے ایک اعلیٰ مرکز میں ریفر کر دیا گیا تاہم وہ راستے میں ہی دم توڑ گئے۔
کشن کی موت کے بعد، خاندان اور گائوں والے اس بات کو لے کر پریشان تھے کہ آخری رسومات کیسے ادا کی جائیں۔ اسی لمحے کشن کی سات بیٹیاں آگے بڑھیں اور آخری رسومات ادا کرنے کا فیصلہ کیا۔
کشن کی بیٹیوں میں سے ایک سینٹرل انڈسٹریل سکیورٹی فورس (CISF) میں تعینات ہے، اس نے سر منڈووا کر بیٹے کا فرض ادا کیا۔
بیٹیوں کی ہمت کی وجہ سے وہاں موجود سب لوگوں کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ کشن کنیال کی7 بیٹیوں میں سے تیسری کرن اس وقت سی آئی ایس ایف میں تعینات ہے۔
جب کشن کنیال کے جنازے کا سوال اٹھایا گیا تو بہادر فوجی بیٹی نے اپنا سر منڈوا دیا اور اپنی وردی میں ہی اپنے والد کشن کے جنازہ کو کندھا دیا۔
اس کے بعد وہ اپنی 6دیگر بہنوں کے ساتھ رامیشور شمشان گھاٹ گئی، جہاں کرن اور اس کی دوسری بہنوں، شوبھا، چاندنی، نیہا، ببلی اور دیویانشی نے جنازے کو آگ (اگنی دی) دکھائی۔
ایک اور بہن منجو بعض وجوہات کی بناءپر شمشان گھاٹ نہیں پہنچ سکی تھی لیکن اس نے اپنے والد کو کندھا دیا۔
شمشان گھاٹ پر بیٹیوں کی ڈیوٹی سر انجام دینے کے اس منظر نے سب کو ہلا کر رکھ دیا، ان کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔
روایتی طور پر والدین کی آخری رسومات صرف بیٹا ہی ادا کرتا ہے لیکن ان قدامت پسند روایات کو توڑتے ہوئے کشن کنیال کی بیٹیوں نے اپنا فرض ادا کیا۔
علاقہ کے ضلع پنچایت ممبر راہل کمار نے متوفی کشن کنیال کی بیٹیوں کی غیر معمولی ہمت اور محبت کی تعریف کی۔ راہل نے کہا کہ بیٹیوں نے آج سماج کو ایک طاقتور پیغام دیا ہے۔ یہ واقعہ محض ایک جنازہ نہیں بلکہ ”بیٹی بچائو، بیٹی کو پڑھائو کے نعرے کی سچی مثال ہے۔
