سرینگر: جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی اور نیشنل کانفرنس (این سی) کے رکن پارلیمنٹ آغا سید روح اللہ مہدی نے بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی جانب سے ایک پا پردہ مسلم لڑکی کے نقاب کو اتارنے پر شدید تنقید کی ہے۔
نتیش کمار نے پیر کو پٹنہ میں ایک سرکاری تقریب کے دوران ایک خاتون ڈاکٹر کو جاب لیٹر (Job Letter) دیتے ہوئے ان کے چہرے سے نقاب اتار لیا۔ نتیش کمار کے اس عمل پر تنازع شروع ہو گیا ہے نتیش کمار کے اس عمل کی شدید تنقید کی جا رہی ہے۔
محبوبہ مفتی نے اپنے ردعمل میں کہا کہ میں نتیش جی کو ذاتی طور پر جانتی ہوں اور ان کی عزت کرتی ہوں لیکن اس واقعے سے مجھے بے حد حیرانی ہوئی کہ انہوں نے ایک مسلمان خاتون کے چہرے سے نقاب اتارا۔
محبوبہ مفتی نے حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے سوال کیا کہ کیا یہ بڑھاپے کی علامات ہیں یا مسلمانوں کو عوامی طور پر ذلیل کرنے کی روایت بن چکی ہے؟۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ دیکھ کر اور مزید افسوس ہوا کہ اردگرد کھڑے لوگ اس غیر انسانی واقعے کو تماشا سمجھ کر دیکھ رہے تھے۔
نتیش صاحب، شاید اب وقت آگیا ہے کہ آپ استعفا دیں۔
ممبر پارلیمنٹ آغا روح اللہ نے بھی نتیش کمار کے اس عمل کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کا یہ عمل ناقابل دفاع اور گہری تشویش کا باعث ہے۔ انہیں اس خاتون اور عوام سے غیر مشروط معافی مانگنی چاہیے۔
لوک سبھا ممبر نے نتیش کمار کے بارے میں کہا کہ یہ عجیب و غریب رویہ ایک ایسے شخص کی نشاندہی کرتا ہے جس میں اب آئینی عہدے کے لیے درکار تحمل یا ذہنی پختگی باقی نہیں رہی، انہیں طبی معائنہ کرانا اور عہدے سے الگ ہونا ضروری ہے۔
