English Al Qamar Urdu جون 28, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

مشرقی بحرالکاہل: امریکی فوج کے منشیات اسمگلنگ میں ملوث کشتیوں پر حملے، 8 ہلاکتیں

القمر

واشنگٹن: امریکی فوج نے مشرقی بحرالکاہل میں مبینہ منشیات اسمگلنگ کے خلاف کارروائی کے دوران تین کشتیوں کو فضائی حملوں کا نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں آٹھ افراد ہلاک ہو گئے۔

امریکی فوجی حکام کے مطابق یہ کارروائیاں انسدادِ منشیات آپریشنز کے تحت کی گئیں، تاہم ان حملوں نے بین الاقوامی سطح پر شدید سوالات اور تشویش کو جنم دے دیا ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کے مطابق امریکی فوج ستمبر کے اوائل سے بحیرۂ کیریبین اور مشرقی بحرالکاہل میں ان کشتیوں کو نشانہ بنا رہی ہے، جن پر منشیات اسمگلنگ میں ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق اب تک ان کارروائیوں میں کم از کم 26 کشتیاں تباہ کی جا چکی ہیں، جبکہ مجموعی طور پر ہلاکتوں کی تعداد 95 تک پہنچ گئی ہے۔

امریکی سدرن کمانڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر تازہ حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ہلاک ہونے والے تمام افراد منشیات اسمگلنگ میں ملوث تھے، تاہم اس دعوے کے حق میں کوئی ٹھوس شواہد فراہم نہیں کیے گئے۔ بیان کے ساتھ جاری کی گئی ویڈیو فوٹیج میں تین مختلف کشتیاں سمندر میں سفر کرتی دکھائی دیتی ہیں، جنہیں بعد ازاں فضائی حملوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

امریکی سدرن کمانڈ کا مؤقف ہے کہ انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر تصدیق کی گئی تھی کہ یہ کشتیاں مشرقی بحرالکاہل میں منشیات اسمگلنگ کے معروف راستوں پر سرگرم تھیں اور غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث تھیں۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ صرف انٹیلی جنس رپورٹس کی بنیاد پر مہلک کارروائیاں کرنا بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کے اصولوں سے متصادم ہو سکتا ہے۔

ان حملوں پر انسانی حقوق کے کارکنوں اور امریکی ڈیموکریٹ قانون سازوں کی جانب سے سخت تنقید کی جا رہی ہے۔ اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ نے گزشتہ ماہ خبردار کیا تھا کہ سمندر میں اس نوعیت کے فضائی حملے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کے زمرے میں آ سکتے ہیں، خصوصاً جب ہلاک ہونے والوں کے خلاف الزامات کی آزادانہ تصدیق نہ ہو۔

دوسری جانب امریکی انتظامیہ نے ہلاک ہونے والوں کو ’جنگجو‘ قرار دیتے ہوئے مؤقف اپنایا ہے کہ وہ محکمۂ انصاف کی ایک خفیہ قانونی رائے کے تحت عدالتی نگرانی کے بغیر مہلک کارروائیاں کرنے کی مجاز ہے۔ تاہم تاحال امریکی حکام اس بات کے ٹھوس اور قابلِ تصدیق شواہد پیش کرنے میں ناکام رہے ہیں کہ جن کشتیوں کو نشانہ بنایا گیا وہ واقعی منشیات کی ترسیل میں استعمال ہو رہی تھیں، جس کے باعث یہ کارروائیاں عالمی سطح پر ایک متنازع معاملہ بنتی جا رہی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے