اسلام آباد: وفاقی ادارہ شماریات کی تازہ رپورٹ کے مطابق ملک میں چند ہفتوں تک مہنگائی میں اضافے کے بعد اب قیمتوں کے دباؤ میں معمولی کمی دیکھنے میں آئی ہے، جسے عوام کے لیے ایک محدود مگر مثبت اشارہ قرار دیا جا رہا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حالیہ ہفتے کے دوران ہفتہ وار بنیاد پر مہنگائی کی شرح میں 0.09 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے جب کہ سالانہ بنیاد پر مہنگائی کی مجموعی شرح گھٹ کر 2.83 فیصد کی سطح پر آ گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ کمی اگرچہ بہت زیادہ نہیں، تاہم مسلسل اضافے کے رجحان کے بعد اس میں کمی کا آنا اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔
وفاقی ادارہ شماریات کی ہفتہ وار مہنگائی رپورٹ میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے، جس کے مطابق حالیہ ہفتے میں مجموعی طور پر 13 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، 11 اشیاء سستی ہوئیں جب کہ 27 اشیا کی قیمتوں میں کوئی نمایاں تبدیلی نہیں دیکھی گئی۔
اعداد و شمار کے مطابق حالیہ ہفتے کے دوران چند بنیادی اشیائے خورونوش مہنگی بھی ہوئیں۔ سرخ مرچ کی قیمت میں 6.26 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جب کہ چکن کی قیمتیں 5.29 فیصد بڑھ گئیں۔ اسی طرح لہسن کی قیمت میں 1.50 فیصد اور انڈوں کی قیمت میں 0.58 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔
دوسری جانب رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کئی اہم اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں نمایاں کمی بھی ریکارڈ کی گئی ہے، جس نے مجموعی مہنگائی کی شرح کو نیچے لانے میں مدد دی۔
ایک ہفتے کے دوران خوردنی گھی کا ڈھائی کلو ٹن 0.56 فیصد سستا ہوا، جبکہ دال مونگ کی قیمت میں 0.48 فیصد کمی دیکھی گئی۔ سبزیوں میں آلو کی قیمت میں 10.37 فیصد اور ٹماٹر کی قیمت میں 9.64 فیصد کی نمایاں کمی سامنے آئی، جسے عوام کے لیے نسبتاً بڑا ریلیف قرار دیا جا رہا ہے۔ اسی طرح پیاز 7.43 فیصد، چینی 4.22 فیصد، دال چنا 1.76 فیصد، دال مسور 0.74 فیصد اور باسمتی چاول 0.17 فیصد سستے ہوئے۔
وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق حساس قیمتوں کے اشاریے کے تحت مختلف آمدنی رکھنے والے طبقات پر مہنگائی کے اثرات کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ 17 ہزار 732 روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کے لیے سالانہ بنیاد پر مہنگائی کی رفتار میں 0.33 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد یہ شرح 1.35 فیصد پر آ گئی۔
اسی طرح 17 ہزار 733 روپے سے 22 ہزار 888 روپے ماہانہ آمدنی رکھنے والے طبقے کے لیے مہنگائی میں اضافے کی رفتار 0.17 فیصد کمی کے ساتھ 2.58 فیصد رہی۔
اعداد و شمار کے مطابق 22 ہزار 889 روپے سے 29 ہزار 517 روپے ماہانہ آمدنی رکھنے والے طبقے کے لیے مہنگائی میں 0.19 فیصد کمی کے بعد شرح 2.82 فیصد ریکارڈ کی گئی، جبکہ 29 ہزار 518 روپے سے 44 ہزار 175 روپے ماہانہ آمدنی رکھنے والے افراد کے لیے مہنگائی کی رفتار 0.16 فیصد کمی کے ساتھ 2.77 فیصد رہی۔
ادارہ شماریات نے بتایا کہ 44 ہزار 176 روپے ماہانہ سے زائد آمدنی رکھنے والے طبقے کے لیے بھی مہنگائی میں معمولی کمی آئی اور اس طبقے کے لیے مہنگائی کی شرح 0.07 فیصد کمی کے بعد 2.56 فیصد پر آ گئی ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق اگر آنے والے ہفتوں میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں یہی رجحان برقرار رہا تو مہنگائی میں مزید استحکام آ سکتا ہے، تاہم عالمی منڈی، توانائی کی قیمتوں اور ملکی مالیاتی پالیسیوں کے اثرات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
