واشنگٹن:امریکا کے ارب پتی بزنس مین اور ٹیسلا کے چیف ایگزیکٹو ایلون مسک نے 2026ء کے وسط مدتی انتخابات سے قبل ریپبلکن پارٹی کو مالی تعاون فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
عالمی میڈیا رپورٹس کےمطابق ایلون مسک کی مجموعی دولت 726.4 ارب ڈالر ہے اور وہ ٹرمپ کے 2020 کے عام انتخابات میں اہم مالی معاونین میں شامل تھے۔ اس وقت، مسک نے ٹرمپ کو بھاری فنڈز فراہم کیے تھے جس کے باعث ٹرمپ کامیاب ہوئے تھے۔ اس تعاون کے بدلے ٹرمپ نے مسک کو ایک اہم وزارت بھی دی تھی تاہم دونوں کے درمیان اختلافات پیدا ہوگئے تھے، جس کے نتیجے میں مسک کو وزارت چھوڑنی پڑی اور ٹرمپ نے عوامی اجتماعات میں اپنے سابق دوست پر تنقید کی تھی۔
ایلون مسک کی تازہ حمایت:
ماضی میں دونوں شخصیات کے درمیان تعلقات کی کشیدگی کے باوجود، ایلون مسک نے حال ہی میں اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک پیغام جاری کیا جس میں انہوں نے کہا کہ اگرریڈیکل لیفٹ دوبارہ اقتدار میں آیا تو امریکا کو شدید نقصان پہنچے گا، اس سے غیر قانونی تارکین وطن کی آمد ہوگی، ملک اپنی شناخت کھو بیٹھے گا اور دھوکہ دہی عام ہوجائے گی۔
واضح رہےکہ ماضی میں شدید اختلافات کے باوجود، ایلون مسک اور ٹرمپ کے تعلقات میں بہتری کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ نائب صدر جے ڈی وینس نے کئی ماہ تک دونوں شخصیات کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے کی کوششیں کیں، جن کے نتیجے میں یہ قربت ممکن ہوئی۔ اس کے علاوہ، مسک نے جولائی 2025 میں “امریکا پارٹی” کے نام سے ایک نئی سیاسی جماعت بنانے کی کوشش کی تھی، مگر وہ ناکام ہو گئی۔
موجودہ حالات میں ایلون مسک کی تازہ حمایت کو ٹرمپ کے امیگریشن اور حکومتی اخراجات کے ایجنڈے کے لیے بہت اہم سمجھا جا رہا ہے، ایلون مسک اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ماضی میں ہونے والے اختلافات کے باوجود، دونوں کے مفادات اب ایک دوسرے کے قریب آتے نظر آ رہے ہیں، جو 2026ء کے مڈٹرم انتخابات پر اہم اثر ڈال سکتے ہیں۔
