نئی دہلی:بہوجن سماج پارٹی کی سربراہ اور سابق وزیر اعلیٰ اتر پردیش مایاوتی نے ہفتے کے روز سوشل میڈیا پر کئی اہم مسائل پر کھل کر رائے دی۔ انہوں نے خواتین کی حفاظت و احترام، پولیس کی شائستگی، کسانوں کے مسائل اور ملک کی خراب ہوتی ہوئی خارجہ پالیسی پر حکومتوں کو آئینہ دکھایا۔
بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے ذریعہ تقرری کے خط دیتے وقت خاتون ڈاکٹر کا حجاب ہٹانے کے واقعے پر مایاوتی نے کہا کہ یہ خواتین کے احترام سے منسلک ایک سنجیدہ مسئلہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزراءکے بیانات سے معاملہ مزید خراب ہو رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ نتیش کمار کو اس معاملے میں فوری مداخلت کرتے ہوئے معافی مانگ لینی چاہیے اور معاملے کو زیادہ طول نہ دیا جائے۔
مایاوتی نے مشورہ دیا کہ وزیر اعلیٰ کو ذاتی طور پر مداخلت کر کے معافی مانگنی چاہیے اور اس تنازع کو یہیں ختم کرنا چاہیے، تاکہ خواتین کا احترام برقرار رہے۔
دوسری جانب اس معاملے میں مختلف مقامات پر نتیش کمار کے خلاف شکایات بھی درج کرائی گئیں۔ جموں و کشمیر کی پی ڈی پی لیڈر التجا مفتی نے ایف آئی آر درج کرنے کے مطالبے کے ساتھ باضابطہ شکایت درج کرائی۔ مذہبی لیڈروں نے بھی اس واقعے پر تنقید کی۔
پٹنہ میں بائیں بازو کی جماعت مالے کی خواتین ونگ، آل انڈیا پروگریسو ویمنس ایسوسی ایشن (ایپوا) نے احتجاجی دھرنا دیا۔
تنظیم نے اعلان کیا کہ اگر وزیر اعلیٰ معافی نہیں مانگتے تو وہ عدالتی راستہ اختیار کریں گی۔ وہیں راجستھان کے جے پور میں برقعہ پہننے والی مسلم خواتین نے بھی اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حجاب کھینچنا سراسر غلط ہے اور اسلام میں حجاب کو ایک اہم فریضہ قرار دیا گیا ہے۔
