رانچی: بہار میں ڈاکٹر کے تقرری خط کی تقسیم کے پروگرام کے دوران وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی جانب سے خاتون ڈاکٹر کے چہرے سے حجاب اتارنے کا معاملے میں بھارتی ریاست جھارکھنڈ کے وزیر صحت عرفان انصاری نے بڑی پیشکش کردی ہے۔
وزیر صحت نے بہار کی خاتون ڈاکٹر نصرت کو 3 لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ اور جھارکھنڈ کے محکمہ صحت میں مطلوبہ پوسٹنگ کی پیشکش کی ہے۔ وزیر صحت ڈاکٹر عرفان انصاری نے جمعہ کو اس کا اعلان کیا۔
جھارکھنڈ کے وزیر صحت ڈاکٹر عرفان انصاری نے کہا کہ بہار کے وزیر اعلیٰ کی ایک خاتون کے ساتھ سرعام بدسلوکی نے پوری قوم کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔
ڈاکٹر، بیٹی اور عورت کی توہین، بے حیائی اور حجاب کھینچنے کا شرمناک عمل صرف ایک فرد پر حملہ نہیں ہے بلکہ انسانی وقار، احترام اور آئین پر براہ راست حملہ ہے۔
انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ کسی ایک برادری کا نہیں بلکہ ہر ماں بیٹی کی شناخت اور عزت کا سوال ہے۔ ایسا واقعہ کسی بھی صورت میں ناقابل قبول ہے۔
جھارکھنڈ حکومت کے وزیر صحت ڈاکٹر عرفان انصاری نے کہا کہ اس کی روشنی میں ہیمنت حکومت نے ایک تاریخی، جرات مندانہ اور انسانیت پر مبنی فیصلہ لیا ہے اور بہار کی ایک خاتون ڈاکٹر نصرت پروین کو جھارکھنڈ ہیلتھ سروس میں شامل ہونے کے لیے کھلی، محفوظ اور باعزت پیشکش کی ہے۔
ڈاکٹر عرفان انصاری نے ڈاکٹر نصرت پروین کی خدمات حاصل کرنے کے فیصلے کو جھارکھنڈ حکومت کا ایک بڑا فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر نصرت پروین کو مطلوبہ پوسٹنگ، 300,000? (تین لاکھ روپے) ماہانہ تنخواہ، ایک سرکاری نوکری، ایک سرکاری فلیٹ، مکمل سکیورٹی اور ایک باعزت، خوف سے پاک اور محفوظ کام کا ماحول فراہم کیا جائے گا۔
وزیر صحت ڈاکٹر عرفان انصاری نے کہا کہ میں پہلے ڈاکٹر ہوں پھر وزیر ہوں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جھارکھنڈ میں ڈاکٹر، بیٹی یا عورت کے وقار سے سمجھوتہ کرنا ناممکن ہے۔
بہار میں ایک ڈاکٹر کے ساتھ اس ناشائستہ واقعہ نے ہم تمام طبی پیشہ وروں کو شدید دکھ پہنچایا ہے۔ ہم محسوس کر سکتے ہیں کہ وہ لڑکی اور اس کے خاندان کے ساتھ کیا گزر رہی ہوگی۔
عرفان انصاری نے کہا کہ یہ واقعہ اس بات کو بھی اجاگر کرتا ہے کہ بہار میں بی جے پی اور وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی حکومت خواتین کی عزت اور بیٹیوں کی حفاظت کے مفہوم سے بھٹکتی ہوئی نظر آتی ہے۔
