وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ اس وقت پاکستان کی سکیورٹی فورسز کے پیچھے تمام سیاسی قوتیں یک زبان نظر نہیں آتیں۔
ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ اس حوالے سے سب سے نمایاں فرق پاکستان تحریک انصاف اور خیبر پختونخوا میں اس کی حکومت کی جانب سے سامنے آ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ این ایف سی سے متعلق معاملات میں فنڈز کے لیے اجلاسوں میں تو شریک ہوتے ہیں، لیکن وزیراعظم کی زیر صدارت دہشت گردی کے خلاف ہونے والے اجلاسوں میں شرکت نہیں کرتے۔
انہوں نے بتایا کہ عوامی سطح پر بیانات دینے سے قبل پس پردہ متعدد کوششیں کی گئیں تاکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ پر سیاسی اتفاقِ رائے قائم کیا جا سکے۔ طلال چوہدری کے مطابق خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ نے آئی جی اور چیف سیکرٹری کو یہ مؤقف اختیار کیا کہ وہ اس جنگ میں شامل نہیں ہوں گے، کیونکہ ایسا کرنے سے انہیں اے این پی، پیپلز پارٹی، ن لیگ اور جے یو آئی ایف جیسی جماعتوں کی صف میں کھڑا ہونا پڑے گا۔
وزیرِ مملکت نے کہا کہ یہ ایک مخصوص بیانیہ ہے، جس کے پیچھے پی ٹی آئی کی قیادت ہے، اور ان کے نزدیک ریاست جتنی زیادہ دباؤ اور انتشار کا شکار ہوگی، اتنا ہی انہیں سیاسی فائدہ حاصل ہوگا۔
