English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

بھارت:جیولری دکانوں میں حجاب اورنقاب پرپابندی

القمر

پٹنہ: ہندوتوا کی پیروکارمودی سرکار تیزی سے بھارت کو ہندو دیش بنانے میں لگی ہوئی ہے جس کا سب سے زیادہ نشانہ مسلمان بن رہے ہیں ۔

بھارتی ریاست بہار میں حجاب اور نقاب پہننے والی خواتین اب سونا نہیں خرید سکتی ہیں۔ آل انڈیا جولرس اینڈ گولڈ فیڈریشن نے اعلان کیا ہے کہ جو کسٹمر اپنے چہرے کو حجاب، نقاب سے چہرے کو ڈھانپ کر رکھی ہوں گی، انہیں زیورات کے دکانوں اور شو رومز میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوگی۔

 یہ متنازع فیصلہ ان مردوں پر بھی لاگو ہوگا جو اپنے چہرے کو ماسک یا ہیلمٹ جیسی چیزوں سے ڈھک رکھے ہوں گے۔ اس فیصلے کے مطابق اب بہار میں زیورات چہرہ دکھانے کے بعد ہی خریدے جاسکتے ہیں۔

 آل انڈیا جولرس اینڈ گولڈ فیڈریشن کے ریاستی صدر اشوک کمار ورما نے بتایا کہ یہ قدم زیورات کی دکانوں میں ہو رہی چوری اور لوٹ پاٹ کے واقعات کو روکنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔

اشوک کمار کے مطابق ہم نے جو فیصلہ کیا ہے وہ مکمل طور پر سکیورٹی خدشات پر مبنی ہے۔مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب لوگ دکانوں میں منہ چھپا کر داخل ہوتے ہیں۔ وہ ہیلمٹ، گھونگھٹ یا نقاب پہن کر تین یا چار کے گروہ میں داخل ہوتے ہیں اور ڈکیتی کرتے ہیں۔

اشوک کمار ورما نے کہا کہ ہمارا مقصد برقع پر پابندی لگانا نہیں ہے، بلکہ حجاب یا برقع پہننے والوں سے درخواست کرنا ہے کہ چہرہ دکھا کر ہی خریداری کریں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ خواتین ہماری بات مانیں گی اور اس میں تعاون کریں گی۔

اشوک کمار ورما نے نہ صرف حجاب پہننے والی خواتین سے بلکہ گمچھا یا ہیلمٹ پہننے والے مردوں سے بھی اپیل کی ہے، کیونکہ اس کی وجہ سے ان کا چہرہ پہچانا نہیں جا سکتا۔

مسلم خواتین کے بارے میں اشوک ورما نے کہا کہ “میں برقع کے خلاف نہیں ہوں لیکن اگر کوئی گاہک اور دکاندار آمنے سامنے ہوں تو ایک رشتہ بنتا ہے،یہ اصول کسی خاص برادری کے لیے نہیں، بلکہ سب کے لیے ہے۔

بھارتی مسلمانوں نے اس فیصلے کو مسلم خواتین کے خلاف قرار دیتے ہوئے اسے مودی کی مسلم دشمنی کا نیا حربہ قرار دیا ہے۔

  • ویب ڈیسک
  • Faiz alam babar

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے