کراچی: حکومت پاکستان نے خواتین کی آزاد قانونی شناخت کو تسلیم کرتے ہوئے پاسپورٹ کے اجرا کے عمل میں اہم اصلاحات متعارف کرا دی ہیں۔
ڈائریکٹوریٹ جنرل آف امیگریشن اینڈ پاسپورٹس کے اعلان کے مطابق اب شادی شدہ خواتین اپنی خواہش کے مطابق اپنے والد کا نام پاسپورٹ پر برقرار رکھ سکیں گی۔
یہ اصلاحات لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس عاصم حفیظ کے فیصلے کی روشنی میں کی گئی ہیں، جو مقدمہ (W.P No. 65154/2023 مہر بانو لنگڑیالال و دیگر بنام فیڈریشن آف پاکستان و دیگر) میں جاری ہوا تھا۔ عدالت نے قرار دیا تھا کہ خواتین کو اختیار دیا جائے کہ وہ اپنے قومی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ پر والد کا نام برقرار رکھ سکیں۔
یہ اقدام بیرسٹر خدیجہ یاسمین بخاری و دیگر کی ایک اور مشابہہ درخواست (W.P No. 58842/2023) کا بھی احاطہ کرتا ہے۔
عدالتی احکامات پر عمل درآمد کے لیے متعلقہ اداروں کے ساتھ مشاورت کا عمل شروع کیا گیا۔ اس سلسلے میں یو این ویمن پاکستان کے کنٹری ریپریزنٹیٹو جمشید ایم قاضی اپنی ٹیم کے ہمراہ ڈی جی آئی پی سے ملاقات کے لیے پہنچے تاکہ اصلاحات کے نفاذ میں تعاون فراہم کیا جا سکے۔
حکام کا کہنا ہے کہ قانونی شناخت اور سرکاری دستاویزات تک رسائی خواتین کی معاشی، سماجی اور شہری زندگی میں مکمل شرکت کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔
