ایران پر حالیہ حملوں کے حوالے سے امریکا میں عوامی رائے سامنے آ گئی ہے جس کے مطابق قابلِ ذکر تعداد ان کارروائیوں کی مخالف ہے۔
ایپسوس کے تازہ سروے کے مطابق 43 فیصد امریکی شہریوں نے ایران پر حملوں کی مخالفت کی، جبکہ صرف 27 فیصد افراد نے ان اقدامات کی حمایت کی۔ سروے میں شامل 29 فیصد افراد نے اس معاملے پر واضح مؤقف اختیار نہیں کیا۔
نتائج کے مطابق ان حملوں کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت میں بھی ایک فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ مزید برآں 56 فیصد امریکیوں کا خیال ہے کہ صدر بیرونِ ملک امریکی فوج کے استعمال کے معاملے میں حد سے زیادہ آمادہ رہتے ہیں۔
اس رائے کی تائید 87 فیصد ڈیموکریٹس، 60 فیصد آزاد ووٹرز اور 23 فیصد ری پبلکنز نے بھی کی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ری پبلکن ووٹرز کے اندر بھی مکمل اتفاق نہیں پایا گیا۔ سروے کے مطابق 55 فیصد ری پبلکنز ایران پر حملوں کے حامی ہیں، تاہم 13 فیصد نے مخالفت کی۔ آزاد ووٹرز میں سے 44 فیصد نے واضح کیا کہ اگر جنگ کے نتیجے میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہوا تو وہ اس کی حمایت نہیں کریں گے۔
یہ آن لائن سروے 12 ہزار 82 افراد سے کیا گیا جس میں 3 فیصد غلطی کے امکان کی نشاندہی کی گئی۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار امریکا کی داخلی سیاست پر بھی اثرانداز ہو سکتے ہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب عالمی سطح پر کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
