English Al Qamar Urdu جون 29, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

’پہلے قوم کو محفوظ کرو‘:خامنہ ای نے محفوظ مقام پر جانے سے انکار کردیا تھا

القمر

اسرائیل اور امریکا کے مشترکہ  حملوں میں شہید ہونے والے ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے بارے میں ایک اہم انکشاف سامنے آیا ہے کہ انہوں نے سیکیورٹی خدشات کے باوجود محفوظ مقام پر منتقل ہونے سے انکار کر دیا تھا۔

بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق یہ دعویٰ بھارت میں ان کے نمائندے ڈاکٹر عبدالماجد حکیم الٰہی کے نے ایک انٹرویو میں کیا، جس میں انہوں نے بتایا کہ سیکیورٹی ادارے مسلسل اصرار کر رہے تھے کہ رہنما کو کسی اور شہر یا زیرِ زمین بنکر میں منتقل کر دیا جائے، مگر انہوں نے اس تجویز کو قبول نہیں کیا۔

ڈاکٹر عبدالماجد کے مطابق آیت اللہ خامنہ ای کا مؤقف واضح تھا کہ اگر خطرہ اتنا ہی سنگین ہے تو پہلے پوری ایرانی قوم کو محفوظ مقام پر منتقل کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ رہنما نے کہا کہ وہ اس وقت تک خود کو الگ نہیں کریں گے جب تک عام شہری بھی اسی طرح محفوظ نہ ہوں۔

نمائندے کے بقول انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر بنکر میں جانا ضروری ہے تو پہلے عوام کو وہاں منتقل کیا جائے، پھر وہ اس پر غور کریں گے۔

انٹرویو میں یہ بھی بتایا گیا کہ حملے کے وقت آیت اللہ خامنہ ای اپنے گھر میں قائم دفتر میں موجود تھے۔ میزائل حملے کے نتیجے میں وہ خود بھی شہید ہوئے جبکہ ان کی اہلیہ، بہو اور پوتے بھی اس سانحے میں جان کی بازی ہار گئے۔

اس واقعے نے ایران سمیت عالمِ اسلام میں گہرے صدمے کی کیفیت پیدا کر دی ہے اور مختلف حلقوں میں اس پر شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ تفصیلات درست ہیں تو یہ اقدام ان کی سیاسی اور مذہبی قیادت کے انداز کی عکاسی کرتا ہے، جہاں وہ خود کو عوام سے جدا تصور نہیں کرتے تھے، تاہم اس واقعے نے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے اور عالمی سطح پر اس کے اثرات پر بحث جاری ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے