ویانا:ایران نے باضابطہ طور پر تصدیق کی ہے کہ اس کے اہم جوہری مرکز نطنز کو امریکی اور اسرائیلی حملوں میں نشانہ بنایا گیا ہے۔ ایرانی حُکام نے اس اقدام کو بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
ایران کے نمائندے رضا نجفی نے عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے پینتیس رکنی بورڈ آف گورنرز کے اجلاس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایک بار پھر ایران کے پرامن اور محفوظ جوہری مراکز کو نشانہ بنایا گیا، حملے کے دوران جس مقام کو نشانہ بنایا گیا وہ نطنز جوہری مرکز تھا۔
ویانا میں ہونے والے اجلاس کے دوران ایرانی نمائندے نے کہا کہ ایران کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے اور اسے عالمی معاہدوں کے تحت چلایا جا رہا ہے، ایسے حملے نہ صرف ایران بلکہ عالمی سلامتی کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے رائٹرز کے ایک سوال کے جواب میں تصدیق کی کہ نشانہ بننے والا مقام نطنز ہی تھا، تاہم نقصانات کی تفصیلات فوری طور پر جاری نہیں کی گئیں۔
ایران نے اس حملے کو بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جوہری پروگرام کو درپیش کسی بھی ممکنہ خطرے کے پیش نظر حفاظتی اقدامات کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، حساس تنصیبات کے گرد سیکیورٹی انتظامات بڑھا دیے گئے ہیں اور صورتحال کا مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ نطنز ایران کے اہم ترین جوہری مراکز میں شمار ہوتا ہے اور اس پر حملے کی تصدیق خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہے۔ عالمی برادری بالخصوص یورپی ممالک اور اقوام متحدہ اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں جبکہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آئندہ دنوں میں اس معاملے پر مزید سفارتی سرگرمیاں تیز ہو سکتی ہیں۔
