اسلام: محکمہ موسمیات نے مارچ دو ہزار چھبیس کے دوران درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافے اور ممکنہ ہیٹ ویو کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ملک کے بیشتر علاقوں میں بارشیں معمول سے کم رہنے کا امکان ہے، جس کے باعث گرمی کی شدت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق رواں ماہ کے دوران درجہ حرارت معمول سے زیادہ رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے جبکہ بارشوں میں کمی کے باعث خشک موسم غالب رہے گا، بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے باعث پنجاب، سندھ اور بلوچستان میں مچھروں کی افزائش میں کمی آ سکتی ہے، گرمی کی شدت انسانی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق شدید گرمی بچوں، بزرگوں اور پہلے سے بیمار افراد کے لیے زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ زائد درجہ حرارت کے باعث ربیع کی فصل کے وقت سے پہلے تیار ہونے کا امکان ہے، کم بارشوں کے سبب فصلوں کے لیے نمی کی دستیابی محدود رہنے کا خدشہ بھی موجود ہے۔
زرعی ماہرین کے مطابق خشک موسم اور زیادہ درجہ حرارت چاول کی کٹائی کے بعد اس کی خشکائی اور ذخیرہ کرنے کے عمل میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے لیکن پانی کی کمی دیگر فصلوں کے لیے مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق اسلام آباد، راولپنڈی اور لاہور میں مارچ کے پہلے ہفتے سے پولن سیزن شروع ہونے کا امکان ہے، جس کے باعث بچوں اور بزرگوں میں سانس اور الرجی سے متعلق بیماریوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ ماسک کا استعمال کریں اور غیر ضروری طور پر باہر نکلنے سے گریز کریں، خصوصاً صبح کے اوقات میں جب پولن کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔
ادھر پنجاب، سندھ اور خیبر پختونخوا میں خشک موسم کے باعث دھند کی شدت میں کمی آنے کی پیش گوئی بھی کی گئی ہے، جس سے ٹریفک کی روانی بہتر ہونے کی امید ہے۔ محکمہ موسمیات نے شہریوں، کسانوں اور متعلقہ اداروں کو موسمی صورت حال کے پیش نظر پیشگی اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔
