واشنگٹن میں ایران کے خلاف ممکنہ امریکی فوجی کارروائی کے معاملے پر سینیٹ میں ہونے والی سماعت اس وقت ہنگامہ آرائی کا منظر پیش کرنے لگی جب ایک سابق میرین اہلکار نے اجلاس کے دوران احتجاج شروع کر دیا، جس کے بعد سکیورٹی اہلکاروں نے اسے زبردستی کمرۂ اجلاس سے باہر نکال دیا۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر گردش کرنے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ امریکی میرین کور کے سابق رکن برائن میکگینس، جو آئندہ انتخابات میں گرین پارٹی کے ٹکٹ پر سینیٹ کی نشست کے امیدوار بھی ہیں، سماعت کے دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی آپریشن کے فیصلے کے خلاف آواز اٹھا رہے تھے۔ ان کے اچانک احتجاج کے باعث اجلاس کا ماحول کشیدہ ہو گیا۔
Senator Sheehy joined Capitol Police in lifting up and ejecting anti war protestor Brian McGinnis from a SASC subcommittee hearing. McGinnis is a Green Party candidate running for Senate in N.C. An antiwar activist filmed the video below: pic.twitter.com/0dVA0ORWXQ
— Alan He (@alanhe) March 4, 2026
ویڈیو میں برائن میکگینس کو بلند آواز میں نعرہ لگاتے سنا جا سکتا ہے کہ کوئی بھی اسرائیل کے لیے جنگ لڑنا نہیں چاہتا، جس پر وہاں موجود سکیورٹی اہلکار فوری حرکت میں آئے اور انہیں قابو کرتے ہوئے اجلاس گاہ سے باہر لے گئے، اس دوران کچھ دیر کے لیے سماعت کا عمل بھی متاثر ہوا۔
اسی ویڈیو میں یہ منظر بھی دکھایا گیا ہے کہ مونٹانا سے تعلق رکھنے والے سینیٹر ٹم شیہی، جو ماضی میں خود بھی امریکی فوج سے وابستہ رہ چکے ہیں، کیپیٹل پولیس کے اہلکاروں کی مدد کرتے ہوئے برائن میکگینس کو اٹھا کر باہر منتقل کرنے میں معاونت کر رہے ہیں۔
واقعے کی ویڈیو منظرعام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا پر اس پر مختلف ردعمل سامنے آ رہے ہیں، جہاں بعض صارفین اسے اظہارِ رائے کی آزادی کا معاملہ قرار دے رہے ہیں، جبکہ کچھ حلقے سینیٹ کے اجلاس میں اس طرز کے احتجاج کو نامناسب قرار دے رہے ہیں۔
