English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

ایران جنگ کے اثرات: آبنائے ہرمز بحران سے پاکستانی ٹیکسٹائل صنعت کو خطرات

القمر

مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور ایران کے خلاف اسرائیلی و امریکی کارروائیوں کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال نے پاکستان کی معیشت پر ممکنہ اثرات کے حوالے سے خدشات کو بڑھا دیا ہے۔

خصوصاً آبنائے ہرمز کے گرد جغرافیائی کشیدگی نے پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی صنعت ٹیکسٹائل کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔

صنعتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں توانائی کی سپلائی متاثر ہوتی ہے تو اس کا براہ راست اثر پاکستان کی صنعتی پیداوار اور برآمدات پر پڑ سکتا ہے۔ تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل میں ممکنہ رکاوٹیں توانائی کی قیمتوں میں اضافے کا سبب بن سکتی ہیں جس سے پیداواری لاگت مزید بڑھ جائے گی۔

آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان کو خط لکھا ہے۔ اس خط میں موجودہ علاقائی کشیدگی کے باعث صنعت کو درپیش خطرات کی نشاندہی کی گئی ہے۔

اپٹما کے مطابق بحران کے دوہرے اثرات سامنے آ رہے ہیں۔ ایک طرف توانائی کی درآمدات کی ڈالر لاگت تیزی سے بڑھ رہی ہے جبکہ دوسری جانب صنعتی پیداواری لاگت میں اضافے کے باعث برآمدی صنعتوں کی عالمی مسابقت متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

ایسوسی ایشن کے چیئرمین کامران ارشد کے مطابق اگرچہ مستقبل میں کشیدگی میں کمی آ سکتی ہے لیکن توانائی کی سپلائی چین پر اس کے اثرات کئی ماہ تک برقرار رہنے کا امکان ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی منڈی میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کے باعث صنعت کو غیر یقینی صورتحال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر توانائی کی قیمتیں مسلسل بڑھتی رہیں تو اس سے پاکستان کی برآمدی صنعت کو سخت دھچکا لگ سکتا ہے۔ پاکستان کی معیشت میں ٹیکسٹائل شعبہ ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اور اس شعبے کی کارکردگی براہ راست ملکی برآمدات سے جڑی ہوئی ہے۔

صنعتی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی بڑی صنعتیں توانائی پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہیں، اس لیے عالمی توانائی بحران کے اثرات فوری طور پر محسوس کیے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آبنائے ہرمز کی صورتحال کو پاکستانی صنعت کے لیے انتہائی حساس سمجھا جا رہا ہے۔

معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر خطے میں کشیدگی طویل عرصے تک برقرار رہی تو پاکستان سمیت کئی ترقی پذیر ممالک کو توانائی کی بڑھتی قیمتوں اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے باعث معاشی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے