English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

پاکستان میں پہلی بار مکمل سطح پر کم قیمت الیکٹرک کار بنانے کا آغاز

القمر

پاکستان کی صنعتی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل عبور کرنے کی تیاریاں شروع ہو گئی ہیں جہاں پہلی مرتبہ مکمل طور پر مقامی پرزوں سے تیار کی جانے والی الیکٹرک کار متعارف کرانے کا منصوبہ عملی شکل اختیار کر رہا ہے۔

حکومتی سطح پر اس منصوبے کو ملکی آٹو انڈسٹری کے لیے ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ اس سے نہ صرف گاڑیوں کی قیمتوں میں نمایاں کمی ممکن ہوگی بلکہ مقامی صنعت کو بھی فروغ ملے گا۔

حکام کے مطابق اس گاڑی کی تیاری کا مقصد عام شہریوں کے لیے سستی اور ماحول دوست ٹرانسپورٹ فراہم کرنا ہے تاکہ وہ موٹر سائیکل سے کار کی جانب آسانی سے منتقل ہو سکیں۔

انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر حماد منصور نے اس حوالے سے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں پہلی بار ایسی الیکٹرک کار تیار کی جا رہی ہے جس کے تمام اہم پرزے ملک کے اندر تیار کیے جائیں گے۔

انہوں نے یہ گفتگو سمیڈا کے ڈائریکٹر مشہود خان کی جانب سے دیے گئے افطار ڈنر کے موقع پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کی۔

ان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے کے تحت تیار ہونے والی گاڑی رواں سال جون یا جولائی کے دوران مارکیٹ میں پیش کیے جانے کی توقع ہے اور اس کی قیمت دیگر گاڑیوں کے مقابلے میں خاصی کم رکھی جائے گی۔

حماد منصور کے مطابق اس الیکٹرک کار کا پلانٹ لاہور میں لگایا جا رہا ہے جہاں پہلی بار اس نوعیت کی مکمل مقامی پیداوار شروع ہوگی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس گاڑی کی قیمت دس لاکھ روپے سے بھی کم رکھی جائے گی، جس کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ وہ افراد جو اب تک موٹر سائیکل استعمال کرتے ہیں وہ آسانی سے کم قیمت کار خریدنے کے قابل ہو سکیں۔

اس اقدام کو شہری ٹرانسپورٹ کے انداز میں بڑی تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کیونکہ کم آمدنی والے طبقے کے لیے کار خریدنا نسبتاً آسان ہو جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ یہ الیکٹرک گاڑی ایک مرتبہ چارج ہونے کے بعد تقریباً 180 سے 200 کلومیٹر تک سفر طے کرنے کی صلاحیت رکھے گی جو شہری اور نیم شہری علاقوں میں روزمرہ استعمال کے لیے کافی سمجھی جا رہی ہے۔

اس منصوبے کے تحت الیکٹرک گاڑی کے اہم ترین اجزا جیسے لیتھیم بیٹری، چارجنگ سسٹم اور کنٹرولر بھی مقامی سطح پر تیار کیے جا رہے ہیں تاکہ درآمدات پر انحصار کم سے کم ہو سکے اور مقامی صنعت کو مضبوط بنایا جا سکے۔

حکام کا کہنا ہے کہ حکومت نئی آٹوموٹیو پالیسی کے تحت مقامی آٹو موبائل مینوفیکچررز کی بھرپور حوصلہ افزائی کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اسی مقصد کے لیے آئندہ وفاقی بجٹ میں گاڑیوں پر عائد مختلف ٹیکسوں میں کمی کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے تاکہ مقامی سطح پر گاڑیوں کی پیداوار کو مزید فروغ دیا جا سکے۔

حکومتی حکمت عملی کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ مستقبل میں مکمل طور پر مقامی سطح پر تیار کی جانے والی گاڑیوں کو کم لاگت پر بیرونِ ملک برآمد کیا جائے۔

حماد منصور کے مطابق ماضی میں پاکستان میں چند بڑی کمپنیوں کا گاڑیوں کی مارکیٹ پر غلبہ رہا ہے تاہم اب صورت حال تبدیل ہو رہی ہے اور نئی کمپنیوں کی آمد سے مقابلہ بڑھ رہا ہے جس کے نتیجے میں گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی کا رجحان بھی دیکھنے میں آ رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ملک کی دو سے تین کمپنیاں مکمل طور پر مقامی گاڑیاں تیار کرنے میں دلچسپی رکھتی ہیں جس سے آنے والے برسوں میں آٹو انڈسٹری میں مزید سرگرمی متوقع ہے۔

الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ کے لیے حکومت نے سبسڈی پروگرام بھی متعارف کرایا ہے جس کے تحت اگلے 4 برس میں 2 کروڑ سے زائد الیکٹرک موٹر سائیکلوں اور رکشوں کی حوصلہ افزائی کے لیے مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔

اس پروگرام کے لیے مجموعی طور پر 100 ارب روپے کی سبسڈی مختص کرنے کا منصوبہ ہے۔ ابتدائی مرحلے میں 40 ہزار الیکٹرک موٹر سائیکلوں اور رکشوں کو سبسڈی دی جا رہی ہے جبکہ عیدالفطر کے بعد مزید ہزاروں گاڑیوں کو اس اسکیم میں شامل کیا جائے گا۔

اسی طرح حکومت الیکٹرک موٹر سائیکل کے لیے 80 ہزار روپے جبکہ الیکٹرک رکشے کے لیے چار لاکھ روپے تک سبسڈی فراہم کر رہی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد ماحول دوست ٹرانسپورٹ کی طرف راغب ہو سکیں۔

حکام کے مطابق یہ اقدامات نہ صرف توانائی کے متبادل ذرائع کے استعمال کو فروغ دیں گے بلکہ مقامی صنعت اور روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا کریں گے۔

حماد منصور نے مزید بتایا کہ پاکستان میں لیتھیم بیٹری بنانے کے لیے 4 نئی صنعتیں قائم کی جا رہی ہیں جن میں سے پہلی فیکٹری مئی 2026 میں اپنی تیار کردہ بیٹری متعارف کرانے کی تیاری کر رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب بیٹری سمیت اہم ٹیکنالوجی ملک کے اندر تیار ہوگی تو نہ صرف الیکٹرک گاڑیوں کی قیمت مزید کم ہوگی بلکہ پاکستان اس شعبے میں خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ مقابلہ کرنے کے قابل بھی ہو جائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے