English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

امریکی سینٹ کام کا 72 گھنٹوں میں ایران کے 200 اہداف پر حملوں کا دعویٰ

القمر

امریکی سینٹرل کمانڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ 72 گھنٹوں کے دوران ایران کے تقریباً 200 اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے ۔

امریکی عسکری قیادت کے مطابق یہ کارروائیاں ایک منظم منصوبے کے تحت کی جا رہی ہیں جن کا مقصد ایران کی جنگی اور دفاعی صلاحیت کو کمزور کرنا ہے۔

سینٹکام کمانڈر ایڈمرل بریڈ کاپر نے ایران کے خلاف جاری حملوں سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ امریکی فضائیہ کے بی ٹو بمبار طیاروں نے گہرائی میں دفن ایرانی بیلسٹک میزائل لانچرز کو تباہ کرنے کے لیے درجنوں بنکر بسٹر بم استعمال کیے۔

ان کے اس بیان نے یہ تاثر مضبوط کیا کہ امریکا اب نہ صرف فوری جوابی کارروائیوں تک محدود نہیں بلکہ وہ ایران کے بنیادی عسکری ڈھانچے کو بھی نشانہ بنانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

ایڈمرل بریڈ کاپر کے مطابق آپریشن کے آغاز کے بعد سے ایران کی جانب سے ہونے والے بیلسٹک میزائل حملوں میں 90 فیصد تک کمی آ چکی ہے۔ امریکی کمانڈر نے اس کمی کو اپنی کارروائیوں کی مؤثریت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ابتدائی مرحلے میں حساس اہداف کو تباہ کرنے کی حکمت عملی کامیاب رہی ہے۔

ان کا یہ بھی دعویٰ تھا کہ اب تک 30 سے زائد ایرانی بحری جہاز ڈبو دیے گئے ہیں۔ اگرچہ اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق سامنے نہیں آئی، لیکن امریکی بریفنگ میں اس بات پر زور دیا گیا کہ سمندر میں ایران کی نقل و حرکت محدود کرنا بھی آپریشن کا اہم حصہ ہے، تاکہ خطے میں امریکی اور اتحادی مفادات کو لاحق خطرات کم کیے جا سکیں۔

سینٹکام نے واضح کیا ہے کہ آپریشن کا اگلا مرحلہ ایران کی میزائل پیداوار کی صلاحیت کو نشانہ بنانے پر مرکوز ہوگا۔

اس بیان سے اندازہ ہوتا ہے کہ امریکا صرف موجودہ حملہ آور صلاحیت کو محدود کرنے پر اکتفا نہیں کرنا چاہتا، بلکہ اس کی کوشش یہ ہے کہ ایران مستقبل میں بھی بڑے پیمانے پر میزائل حملے کرنے کی پوزیشن میں نہ رہے۔

یہی وجہ ہے کہ عسکری تجزیہ کار اس پیش رفت کو ایک وسیع اور طویل حکمت عملی کا حصہ قرار دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر میزائل سازی، لانچنگ ڈھانچے اور متعلقہ سپلائی نظام کو نقصان پہنچا دیا جاتا ہے تو ایران کی دفاعی پالیسی پر گہرا اثر پڑ سکتا ہے۔

امریکی موقف یہ ہے کہ ان حملوں کا مقصد ایران کی فوجی اور دفاعی طاقت کو محدود کرنا ہے تاکہ مستقبل کے خطرات کو کم کیا جا سکے۔

واشنگٹن میں موجود دفاعی حلقے یہ تاثر دے رہے ہیں کہ حالیہ کارروائیاں کسی ایک واقعے کا جواب نہیں بلکہ ایک بڑے سکیورٹی فریم ورک کا حصہ ہیں۔ امریکا یہ بھی باور کرا رہا ہے کہ اگر ایران نے اپنی عسکری سرگرمیاں کم نہ کیں تو مزید سخت اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔

علاقائی ماہرین کے مطابق اس نوعیت کے دعوے نہ صرف جنگی ماحول کو مزید سنگین بناتے ہیں بلکہ خطے کے دوسرے ممالک کو بھی غیر یقینی کی صورت حال میں دھکیل دیتے ہیں۔

خلیج، بحیرہ عرب اور آس پاس کے سمندری راستے پہلے ہی عالمی تجارت کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں، اس لیے اگر بحری محاذ پر لڑائی میں شدت آتی ہے تو اس کے اثرات صرف ایران اور امریکا تک محدود نہیں رہیں گے۔  تیل کی ترسیل، جہاز رانی، انشورنس اخراجات اور تجارتی راستوں کا تحفظ، یہ سب معاملے براہ راست متاثر ہو سکتے ہیں۔ اسی سبب عالمی منڈیاں بھی اس پیش رفت پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے