شمالی عراق میں قائم خودمختار کرد انتظامیہ نے اس الزام کی تردید کی ہے کہ عراق سے کردوں کو مسلح کر کے ایران بھیجا جا رہا ہے۔
امریکی حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ عراقی کردوں نے ایران پر زمینی حملہ شروع کیا ہے، تاہم اس دعوے کو عراقی کرد انتظامیہ نے رد کر دیا۔ ترجمان نے کہا کہ وہ خطے میں جنگ کو پھیلانے کی کسی بھی کوشش کا حصہ نہیں ہیں بلکہ امن و استحکام کے قیام کی اپیل کرتے ہیں۔
عراقی کرد انتظامیہ نے اپنے علاقوں پر حملوں کی مذمت کی اور عراقی حکومت اور بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ عوام کی حفاظت کریں اور عراقی کردوں پر حملوں سے بچاؤ میں مدد کریں۔
عراق کے کرد نژاد صدر عبداللطیف راشد کی اہلیہ اور ملک کی خاتون اول شاناز ابراہیم نے کہا کہ کردوں کو خدا کے لیے تنہا نہ چھوڑا جائے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 1991 میں عراق میں بغاوت کے بعد بھی کردوں کو تنہا چھوڑ دیا گیا تھا اور اسی طرح شامی کردوں نے داعش کے خلاف مزاحمت کی لیکن وہ بھی اکیلے رہ گئے۔
شاناز ابراہیم نے کہا کہ عراقی کردوں کو پہلی بار عزت و وقار کے ساتھ زندگی گزارنے کا موقع ملا ہے اور وہ کسی بڑی طاقت کے لیے کرائے کے سپاہیوں کے طور پر استعمال نہیں ہو سکتے۔
