English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

امریکی فوج فضائی اور بحری حدود پر کنٹرول کی پوزیشن میں ہے، پینٹاگون کا دعویٰ

القمر

واشنگٹن: امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا ہے کہ ایران میں جاری امریکی فوجی کارروائی ایک اہم مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جہاں میدان جنگ میں امریکی افواج کو بتدریج برتری حاصل ہو رہی ہے۔

پینٹاگون میں منعقدہ ایک پریس بریفنگ کے دوران انہوں نے میڈیا کو بتایا کہ امریکی فوجی آپریشن منصوبے کے مطابق آگے بڑھ رہا ہے اور حالیہ کارروائیوں کے نتیجے میں امریکی افواج فضائی اور بحری حدود پر کنٹرول حاصل کرنے کی پوزیشن میں آ رہی ہیں۔

وزیر دفاع کے مطابق امریکی فوج کے مختلف یونٹس منظم حکمت عملی کے تحت کارروائیاں کر رہے ہیں اور ان کی کوشش ہے کہ دشمن کی عسکری صلاحیت کو محدود کر دیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ ایران کے پاسدارانِ انقلاب کو امریکی فوجی طاقت کے بارے میں غلط اندازہ تھا اور انہیں یقین تھا کہ امریکا اس جنگ کو زیادہ دیر تک جاری نہیں رکھ سکے گا، مگر زمینی صورتحال اس کے برعکس ثابت ہو رہی ہے۔

پیٹ ہیگستھ کا کہنا تھا کہ امریکی فوج جدید ترین ہتھیاروں اور عسکری ٹیکنالوجی سے لیس ہے اور اس کے پاس وسیع اسلحہ ذخیرہ موجود ہے جس کے باعث مزید کارروائیوں کی مکمل صلاحیت برقرار ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ امریکی افواج صورتحال کے مطابق اپنی حکمت عملی ترتیب دے رہی ہیں اور میدان جنگ میں پیش آنے والے حالات کا مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے۔

امریکی وزیر دفاع نے ایران کے اس مؤقف کو بھی مسترد کیا جس میں کہا گیا تھا کہ امریکا اس جنگ میں الجھ چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ کے دورانیے اور رفتار کا فیصلہ امریکا خود کرے گا اور اس حوالے سے تمام امکانات زیر غور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ تنازع چند ہفتوں میں بھی ختم ہو سکتا ہے اور اگر ضرورت پڑی تو اس کا دورانیہ اس سے زیادہ بھی ہو سکتا ہے۔

پریس بریفنگ کے دوران امریکی فوجی کمانڈر نے بھی آپریشن کی تازہ صورتحال سے آگاہ کیا۔

انہوں نے بتایا کہ حالیہ کارروائیوں کے بعد ایران کی جانب سے کیے جانے والے ڈرون حملوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ کمانڈر کا کہنا تھا کہ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق ڈرون حملوں کی تعداد میں تقریباً 83 فیصد کمی واقع ہوئی ہے جو امریکی فوجی حکمت عملی کی مؤثریت کو ظاہر کرتی ہے۔

فوجی حکام کے مطابق امریکی افواج کی توجہ اس وقت اہم عسکری اہداف کو غیر مؤثر بنانے اور دشمن کے حملہ آور نظام کو کمزور کرنے پر مرکوز ہے۔ اس مقصد کے لیے فضائی اور بحری قوت کو مؤثر انداز میں استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ میدان جنگ میں برتری برقرار رکھی جا سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے