تہران: ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے کارروائی کرتے ہوئے اسرائیل کے 7 ڈرون طیاروں کو مار گرایا ہے جو ایرانی فضائی حدود میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔
ایرانی فوجی حکام کے مطابق یہ ڈرونز جاسوسی یا ممکنہ حملے کے مقصد سے بھیجے گئے تھے تاہم دفاعی نظام نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے انہیں نشانہ بنا کر تباہ کر دیا۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ملک کے فضائی دفاعی نظام کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے اور کسی بھی غیر مجاز پرواز یا حملے کی کوشش کو فوری طور پر ناکام بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی استعمال کی جا رہی ہے۔ فوجی ترجمان کے مطابق ڈرونز کی تباہی اس بات کا ثبوت ہے کہ ایران کا دفاعی نظام ملک کی فضائی حدود کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
دوسری جانب ایرانی فوج نے جاری جنگی صورتحال کے حوالے سے مزید تفصیلات بھی جاری کی ہیں۔
حکام کے مطابق موجودہ جنگ کے دوران ایران کی جانب سے 500 سے زیادہ بیلسٹک اور کروز میزائل داغے جا چکے ہیں۔ اس کے علاوہ مختلف اقسام کے 2 ہزار سے زائد ڈرونز بھی استعمال کیے گئے ہیں جن کے ذریعے مختلف اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
ایرانی فوجی ذرائع کے مطابق داغے گئے میزائلوں میں سے تقریباً 60 فیصد حملے امریکی فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے کیے گئے جبکہ باقی 40 فیصد میزائل اسرائیلی علاقوں کی جانب فائر کیے گئے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں کا مقصد دشمن کی عسکری صلاحیت کو کمزور کرنا اور ایران کے خلاف ہونے والی کارروائیوں کا جواب دینا ہے۔
جنگی صورتحال کے دوران ایرانی صدر نے بھی قوم سے خطاب کیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے پیغام جاری کرتے ہوئے مختلف علاقوں کے عوام کے تعاون کو سراہا۔
اپنے خطاب میں ایرانی صدر نے ملک کی سلامتی کے حوالے سے سخت مؤقف بھی اختیار کیا۔ انہوں نے گورنرز اور مسلح افواج کو ہدایت کی کہ دشمن عناصر کے خلاف ہرممکن اقدامات کیے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی اتحاد اور داخلی استحکام موجودہ حالات میں انتہائی ضروری ہے۔
صدر نے سیکیورٹی فورسز کو واضح ہدایات دیتے ہوئے کہا کہ جو بھی عناصر ملک کی سالمیت یا سلامتی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کریں ان کے خلاف فیصلہ کن اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ قومی سلامتی کے معاملے میں کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی اور ہر قیمت پر ملک کے استحکام کو برقرار رکھا جائے گا۔
مبصرین کے مطابق جنگی کشیدگی کے اس ماحول میں ایران کی قیادت اندرونی استحکام کو بھی یقینی بنانے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ بیرونی دباؤ کے ساتھ ساتھ داخلی چیلنجز کا بھی مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔
