اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ہونے والے پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر سے متعلق اعلیٰ سطح اجلاس میں صوبائی حکومتوں کو ذخیرہ اندوزوں اور مصنوعی قلت پیدا کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی ہدایت کی گئی۔
اجلاس میں وزارتِ پیٹرولیم نے خطے کی بدلتی صورتحال کے تناظر میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کا مناسب ذخیرہ موجود ہے اور قومی ضروریات پوری کرنے کے لیے صورتحال تسلی بخش ہے۔
وزیراعظم نے ہدایت دی کہ پٹرولیم مصنوعات ذخیرہ کرنے والوں کے خلاف فوری کارروائی کی جائے جبکہ جو پٹرول پمپ مصنوعی قلت پیدا کرنے میں ملوث پائے جائیں انہیں فوری بند کر کے لائسنس منسوخ کیا جائے اور قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
انہوں نے وزیر پیٹرولیم کو ہدایت کی کہ وہ صوبوں کا دورہ کر کے صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر پٹرولیم مصنوعات کی بچت اور عوام کو بلا تعطل فراہمی کے لیے جامع منصوبہ بندی تیار کریں۔
وزیراعظم نے مزید ہدایت کی کہ پیٹرولیم مصنوعات کی نقل و حرکت کی نگرانی کے لیے خصوصی ڈیش بورڈ قائم کیا جائے تاکہ صوبوں کے ساتھ حقیقی وقت میں معلومات کا تبادلہ ہو اور ترسیل کے نظام کی مؤثر نگرانی ممکن بنائی جا سکے۔
ذرائع کے مطابق خطے کی صورتحال کے باعث پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر اور کھپت سے متعلق ہائی پاورڈ کمیٹی کے اجلاس میں وزیر خزانہ نے وزیراعظم کو بریفنگ بھی دی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ تعلیمی اداروں میں ورچوئل نظام تعلیم اور سرکاری دفاتر کے لیے گھروں سے کام کرنے کے منصوبے سے متعلق سفارشات پیر کو پیش کی جائیں گی۔ وزیر خزانہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ صوبوں سے مشاورت کے بعد اس حوالے سے تجاویز مرتب کریں۔
اس کے علاوہ ہائی پاورڈ کمیٹی نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے ہفتہ وار تعین سے متعلق سفارشات بھی پیش کیں جنہیں وزیراعظم نے منظور کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اقتصادی رابطہ کمیٹی سفارشات کی منظوری کے بعد سمری وفاقی کابینہ کو بھجوائے گی جہاں حتمی منظوری دی جائے گی۔
