اسلام آباد: پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد اس فیصلے کی ایک بڑی وجہ سامنے آگئی ہے جس کے مطابق حکومت نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے مطالبات کو پورا کرتے ہوئے پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔
اس اقدام کے باعث پیٹرول کی قیمت میں معمول سے زیادہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
وزارت پیٹرولیم کے ذرائع کے مطابق حکومت نے پیٹرول پر عائد پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی میں فی لیٹر 20 روپے کا اضافہ کیا ہے۔ اس اضافے کے بعد لیوی کی شرح 85 روپے سے بڑھا کر 105 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ پیٹرول کی قیمت میں نمایاں اضافہ سامنے آیا۔
ذرائع کے مطابق اگر صرف عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ہونے والے اضافے کو مدنظر رکھتے ہوئے قیمتوں کا تعین کیا جاتا تو پیٹرول کی قیمت میں اضافہ نسبتاً کم ہوتا۔ اندازوں کے مطابق عالمی قیمتوں کے اثرات منتقل کیے جاتے تو پیٹرول زیادہ سے زیادہ 32 سے 35 روپے فی لیٹر تک مہنگا ہوتا۔
تاہم حکومت نے اس موقع پر پیٹرولیم لیوی میں اضافہ کر کے قیمتوں میں مزید اضافہ کر دیا جس کے نتیجے میں عوام پر مالی بوجھ بڑھ گیاہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کے اس فیصلے کا تعلق آئی ایم ایف کے ساتھ جاری مالیاتی پروگرام سے ہے جس کے تحت پاکستان کو محصولات میں اضافہ اور مالی خسارہ کم کرنے کے لیے مختلف اقدامات کرنے پڑ رہے ہیں۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق پیٹرولیم لیوی حکومت کے لیے ایک اہم آمدنی کا ذریعہ بن چکی ہے کیونکہ اس کے ذریعے حاصل ہونے والی رقم براہ راست قومی خزانے میں جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بجٹ خسارے کو کم کرنے کے لیے اکثر اس ٹیکس میں اضافہ کیا جاتا ہے۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے سے مہنگائی کا دباؤ مزید بڑھنے کا خدشہ ہے کیونکہ ٹرانسپورٹ اور پیداواری لاگت میں اضافہ براہ راست اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔
ماہرین معاشیات کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستان کی معیشت اس وقت بیرونی قرضوں اور مالیاتی دباؤ کے باعث مشکل صورتحال سے دوچار ہے اور حکومت کو آئی ایم ایف پروگرام کے تحت متعدد سخت فیصلے کرنا پڑ رہے ہیں۔ اسی تناظر میں پیٹرولیم لیوی میں حالیہ اضافہ بھی ایک اہم مالیاتی قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
