نئی دہلی: جماعتِ اسلامی ہند کے مرکزمیں منعقد ہونے والی ماہانہ پریس کانفرنس کوخطاب کرتے ہوئے امیرجماعت اسلامی ہند سید سعادت اللہ حسینی نے ملک میں خواتین کی عزت ووقارکو درپیش خطرات، بڑھتی ہوئی معاشی مشکلات اورمغربی ایشیا میں شدید ہوتے فوجی تنازع پراپنی گہری تشویش کا اظہارکیا ہے۔
مغربی ایشیا کی جنگ پرتبادلہ خیال کرتے ہوئے سید سعادت اللہ حسینی نے ایران کے خلاف امریکا اوراسرائیل کی طرف سے جاری مشترکہ فوجی کارروائیوں پراپنی شدید تشویش کا اظہارکیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ حملے قومی خودمختاری اورعالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔
انہوں نے جنوبی ایران کے شہرمیناب میں شجرہ طیبہ گرلزاسکول پرکئے گئے فضائی حملے کی شدید مذمت کی جس میں تقریباً 160 سے 170 طالبات جاں بحق ہوئیں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس واقعے نے پوری دنیا کے ضمیرکوجھنجھوڑ دیا ہے اورفوجی حملوں نے شہریوں کے تحفظ کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ موجودہ کشیدگی کو کسی بھی صورت میں وسیع علاقائی جنگ میں تبدیل نہیں ہونے دینا چاہیے۔
ایران کواپنی خودمختاری کے دفاع کا حق حاصل ہے تاہم صورت حال کواس نہج تک نہیں پہنچنا چاہیے کہ پڑوسی ممالک براہِ راست تصادم میں کھنچ جائیں اور مسلم دنیا میں مزید تقسیم پیدا ہو۔
انہوں نے کہا کہ خطے کو طویل اورتباہ کن جنگ سے بچانے کے لیے دانشمندی، احتیاط اورموثر سفارت کاری کی فوری ضرورت ہے۔
انہوں نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا کہ پائیدار امن اوراستحکام صرف مذاکرات، خودمختاری اورانصاف وبین الاقوامی قانون کی پاسداری کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
امیرجماعت اسلامی سید سعادت اللہ حسینی نے آنے والے عالمی یومِ خواتین کی مناسبت سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ یہ دن خواتین کی کامیابیوں کے اعتراف اورحقوق کے حوالے سے منایا جاتا ہے، لیکن خواتین کے خلاف بڑھتے ہوئے جرائم اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ان کی سلامتی، وقاراورمساوی مواقع کے لیے جدوجہد کا سفرابھی باقی ہے۔
نیشنل کرائم ریکارڈزبیورو(این سی آربی) کے مطابق صرف 2022 میں بھارت میں خواتین کے خلاف جرائم کے 4.45 لاکھ سے زیادہ معاملات درج کیے گئے ہیں۔
ان میں جنسی زیادتی، جنسی حملہ، گھریلو تشدد، ہراسانی، انسانی اسمگلنگ اوررشتہ داروں کی جانب سے ظلم وستم جیسے واقعات شامل ہیں۔
اسی سال 31 ہزارسے زائد ریپ کے مقدمات درج ہوئے، یعنی اوسطاً روزانہ جنسی زیادتیوں کے تقریباً 85 واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔
