English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

امریکا کا افغانستان سے شہریوں کی فوری رہائی کا مطالبہ، مارکو روبیو کا سخت بیان

القمر

واشنگٹن: امریکا نے افغانستان کے حوالے سے ایک اہم اعلان کرتے ہوئے اسے ’ناجائز حراست‘ کی سرپرستی کرنے والا ملک قرار دے دیا ہے اور طالبان حکومت پر امریکی شہریوں کی رہائی کے لیے دباؤ بڑھانے کا عندیہ دیا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایک بیان میں کہا کہ طالبان پالیسی رعایتیں حاصل کرنے کے لیے مبینہ طور پر دہشت گردانہ ہتھکنڈے استعمال کرتے رہے ہیں تاہم موجودہ امریکی انتظامیہ کے دور میں اس طرح کے اقدامات مؤثر ثابت نہیں ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ طالبان کو چاہیے کہ وہ افغانستان میں زیر حراست امریکی شہریوں کو فوری طور پر رہا کریں۔ ان میں محقق ڈینس کوئیل بھی شامل ہیں جو جنوری 2025 سے افغانستان میں قید بتائے جاتے ہیں جبکہ افغان نژاد امریکی تاجر محمود حبیبی بھی شامل ہیں جو 2022 میں لاپتا ہو گئے تھے۔

امریکی حکام کے مطابق محمود حبیبی کابل میں ایک ٹیلی کمیونی کیشن کمپنی کے ٹھیکیدار کے طور پر کام کر رہے تھے۔

واضح رہے کہ امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی اور ان افراد کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ انہیں طالبان نے حراست میں لیا تھا تاہم طالبان اس الزام کی تردید کرتے رہے ہیں۔

مارکو روبیو نے اپنے بیان میں کہا کہ طالبان افراد کو اغوا یا حراست میں لے کر انہیں پالیسی رعایتیں یا تاوان حاصل کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں جو بین الاقوامی قوانین اور سفارتی اصولوں کے خلاف ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات فوری طور پر بند ہونے چاہییں کیونکہ اس طرز عمل کے باعث افغانستان غیر ملکی شہریوں کے لیے غیر محفوظ ملک بن سکتا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ نے بھی ایک علیحدہ بیان میں افغانستان کو ان ممالک کی فہرست میں شامل کرنے کی تصدیق کی ہے جن پر یہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ وہ امریکی شہریوں کو گرفتار کر کے سفارتی یا پالیسی فوائد حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نے بھی طالبان حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ مبینہ طور پر یرغمالی سفارت کاری میں ملوث ہے اور غیر ملکی شہریوں کو دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔

امریکی حکام کے مطابق اس فیصلے کا مقصد طالبان حکومت پر دباؤ بڑھانا ہے تاکہ وہ امریکی شہریوں اور دیگر غیر ملکیوں کی غیر منصفانہ حراست کا سلسلہ ختم کریں، بصورت دیگر افغانستان کو مزید سفارتی اور اقتصادی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے