اسلام آباد: اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی ہدایت پر قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں وسیع پیمانے پر کفایت شعاری اقدامات نافذ کر دیے گئے ہیں جن کا مقصد سرکاری اخراجات میں نمایاں کمی لانا اور وسائل کے مؤثر استعمال کو یقینی بنانا ہے۔
قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے اس سلسلے میں باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے جس میں مختلف اقدامات کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔
نوٹیفکیشن کے مطابق یہ اقدامات وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف کی جانب سے شروع کی گئی کفایت شعاری مہم کے تحت کیے گئے ہیں۔ حکومتی سطح پر جاری اس مہم کا مقصد سرکاری اداروں کے اخراجات کو کم کرنا اور قومی وسائل کے استعمال کو بہتر بنانا ہے تاکہ معاشی دباؤ کو کم کیا جا سکے۔
قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے جاری کیے گئے فیصلوں کے تحت سرکاری گاڑیوں کے استعمال میں نمایاں کمی لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں 70 فیصد سرکاری گاڑیاں بند رکھنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے تاکہ ایندھن اور دیگر انتظامی اخراجات کو کم کیا جا سکے۔
نوٹیفکیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ اراکین قومی اسمبلی کی دو ماہ کی تنخواہوں اور الاؤنسز میں 25 فیصد کٹوتی کی جائے گی۔ حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد مالی نظم و ضبط کو مضبوط بنانا اور کفایت شعاری کی پالیسی پر مؤثر انداز میں عمل کرنا ہے۔
قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے بیرون ملک پارلیمانی وفود کے دوروں پر بھی مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ حکام کا کہناہ ے کہ اس فیصلے کا مقصد غیر ضروری سفری اخراجات کو محدود کرنا اور سرکاری وسائل کی بچت کو یقینی بنانا ہے۔
نوٹیفکیشن میں مزید بتایا گیا ہے کہ گریڈ 20 اور اس سے اوپر کے افسران یا وہ افسران جن کی ماہانہ تنخواہ 3 لاکھ روپے یا اس سے زائد ہے، ان کی 2 دن کی تنخواہ قومی خزانے میں جمع کرائی جائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں تمام غیر ضروری خریداری فوری طور پر بند کر دی گئی ہے جبکہ صرف ناگزیر روزمرہ ضروریات کے لیے محدود خریداری کی اجازت دی گئی ہے۔
کفایت شعاری اقدامات کے تحت قومی اسمبلی اور اس کی کمیٹیوں کے اجلاس غروب آفتاب سے پہلے منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ بجلی کے استعمال کو کم کیا جا سکے۔ اسی طرح قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے 80 فیصد ملازمین کو گھر سے ورچوئل ڈیوٹی انجام دینے کی ہدایت دی گئی ہے۔
حکام کے مطابق گھر سے کام کرنے والے ملازمین کو اضافی الاؤنسز نہیں دیے جائیں گے تاکہ اخراجات میں مزید کمی لائی جا سکے۔
اس کے علاوہ قائمہ کمیٹیوں کے اجلاس زیادہ تر ورچوئل یا آن لائن طریقے سے منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ قومی اسمبلی میں ہفتے کے دوران چار ورکنگ ڈیز مقرر کیے جائیں گے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق کفایت شعاری پالیسی کے تحت قائمہ کمیٹیوں کے اجلاسوں کو بھی محدود رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ انتظامی اخراجات کو کم کیا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ بجلی کے استعمال میں تقریباً 70 فیصد تک کمی لانے کی ہدایت جاری کی گئی ہے اور غیر ضروری لائٹس اور برقی آلات بند رکھنے پر زور دیا گیا ہے۔
قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے کیفے ٹیریاز کے یوٹیلیٹی بلز میں بھی 70 فیصد تک بچت کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ مزید برآں روایتی اخراجات میں کمی کے لیے قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں پیپر لیس ورکنگ متعارف کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ کاغذی کارروائی کم ہو اور انتظامی اخراجات کو مزید محدود کیا جا سکے۔
