اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت نے متوفی کوٹہ سسٹم سے متعلق ایک اہم مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے سندھ ہائی کورٹ لاڑکانہ سرکٹ بینچ کے فیصلے کو برقرار رکھا ہے اور اس کے ساتھ ہی درخواست گزاروں کی تقرریوں کو قانونی قرار دے دیا ہے۔
عدالت نے اس معاملے میں سندھ حکومت کی جانب سے دائر کی گئی اپیلیں بھی مسترد کر دی ہیں جس کے بعد درخواست گزاروں کی سرکاری ملازمتیں برقرار رہیں گی۔
یہ فیصلہ جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں وفاقی آئینی عدالت نے سنایا۔ مقدمہ سندھ حکومت اور متوفی کوٹہ کے تحت ملازمت حاصل کرنے والے افراد کے درمیان تنازع سے متعلق تھا۔ عدالت نے تفصیلی فیصلے میں قرار دیا کہ سندھ ہائی کورٹ کے سرکٹ بینچ کی جانب سے جاری کیے گئے احکامات درست اور قانون کے مطابق تھے۔
عدالت کے سامنے سندھ حکومت نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ سپریم کورٹ کے محمد جلال کیس میں دیے گئے فیصلے کے بعد متوفی کوٹہ سسٹم ختم ہو چکا ہے، اس لیے اس بنیاد پر ہونے والی تقرریاں برقرار نہیں رہ سکتیں، تاہم عدالت نے اس مؤقف سے اتفاق نہیں کیا اور قرار دیا کہ اس مقدمے کے حقائق مختلف ہیں۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ سرکاری ملازم کی وفات کے ساتھ ہی اس کے اہل خانہ کے لیے متوفی کوٹہ کے تحت ملازمت کا حق پیدا ہو جاتا ہے۔ عدالت کے مطابق درخواست جمع کرانا، کاغذی کارروائی یا تقرری کا نوٹیفکیشن جاری ہونا محض انتظامی مراحل ہوتے ہیں جبکہ اصل قانونی حق ملازم کی وفات کے وقت ہی پیدا ہو جاتا ہے۔
وفاقی آئینی عدالت نے اپنے فیصلے میں مزید قرار دیا کہ سپریم کورٹ کے فیصلوں کا اطلاق ماضی سے نہیں کیا جا سکتا۔ اس اصول کے تحت ایسے معاملات جن میں حق پہلے ہی پیدا ہو چکا ہو، انہیں ماضی کے بند معاملات تصور کیا جاتا ہے اور بعد کے فیصلوں سے متاثر نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت کے مطابق سندھ ہائی کورٹ لاڑکانہ سرکٹ بینچ نے ان درخواست گزاروں کو متوفی کوٹہ کے تحت ملازمت دینے کے احکامات جاری کیے تھے اور وہ احکامات قانونی تقاضوں کے مطابق تھے، اس لیے ان تقرریوں کو برقرار رکھا جائے گا۔
