اسلام آباد: قومی اسمبلی کے اجلاس میں حکومت کی جانب سے ایف سی تنظیم نو ترمیمی بل ضمنی ایجنڈے پر پیش کر کے منظور کرانے کی کوشش ناکام ہو گئی جبکہ گورنر سندھ کی اچانک تبدیلی پر متحدہ قومی موومنٹ پاکستان نے ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کر دیا۔
قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی اسپیکر غلام مصطفیٰ شاہ کی صدارت میں شروع ہوا۔ وقفہ سوالات کا آغاز ہی ہوا تھا کہ اپوزیشن رکن اقبال آفریدی نے کورم کی نشان دہی کر دی۔ گنتی کے بعد کورم پورا نہ نکلنے پر اجلاس کو کورم پورا ہونے تک ملتوی کر دیا گیا۔
وقفے کے بعد اجلاس دوبارہ شروع ہوا اور گنتی میں کورم پورا نکلا جس کے بعد وفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی ترمیمی بل دو ہزار چھبیس اور دارالحکومت اسلام آباد مقامی حکومت آرڈیننس دو ہزار چھبیس ایوان میں پیش کیے۔
اس دوران پارلیمانی سیکریٹری فرح اکبر نے قومی ورثہ و ثقافت بل دو ہزار پچیس پیش کیا جسے جمعیت علمائے اسلام کی ترامیم مسترد کرتے ہوئے منظور کر لیا گیا۔
بعد ازاں حکومت نے ضمنی ایجنڈے کے ذریعے ایف سی تنظیم نو ترمیمی بل دو ہزار چھبیس پیش کر کے منظور کرانے کی کوشش کی تو اپوزیشن ارکان نے احتجاج کرتے ہوئے اسپیکر ڈائس کا گھیراؤ کر لیا اور کورم کی دوبارہ گنتی کا مطالبہ کیا۔ ابتدا میں ڈپٹی اسپیکر نے احتجاج نظر انداز کرتے ہوئے بل کی شقیں پیش کرنا شروع کر دیں اور چند شقیں منظور بھی ہو گئیں۔
اپوزیشن کے مسلسل احتجاج پر گنتی کرانا پڑی۔ اسی دوران گورنر سندھ کی تبدیلی پر ناراضی ظاہر کرتے ہوئے ایم کیو ایم پاکستان کے ارکان ایوان سے واک آؤٹ کر گئے جس کے باعث کورم پورا نہ رہ سکا اور اجلاس غیر معینہ مدت تک ملتوی کرنا پڑ گیا۔ اس صورتحال کے باعث ایف سی تنظیم نو ترمیمی بل کی منظوری نہ ہو سکی۔
اجلاس کے دوران حکومتی وزرا ڈاکٹر طارق فضل چوہدری اور وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری نے ایم کیو ایم ارکان کو منانے کی کوشش کی تاہم وہ کامیاب نہ ہو سکے۔ ایم کیو ایم کے رکن قومی اسمبلی امین الحق نے واک آؤٹ کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اہم فیصلوں میں ایم کیو ایم کو اعتماد میں نہیں لے رہی۔
اجلاس کے بعد پارلیمنٹ ہاؤس کے گیٹ نمبر ایک پر غیر رسمی گفتگو میں ایم کیو ایم کے ارکان نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شاید پارٹی کے پاس حکومت سے علیحدگی کے علاوہ کوئی اور راستہ باقی نہیں رہا۔
