پاکستان میں مرد و خواتین کی تقریباً برابر تعداد نے رات کے اوقات میں تنہا باہر جانے میں شدید خوف محسوس کرنے کا اعتراف کیا ہے۔
یہ انکشاف گیلپ کی تازہ سروے رپورٹ میں سامنے آیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ عالمی سطح پر خواتین میں عدم تحفظ کا احساس مردوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے، تاہم پاکستان اس میں منفرد حیثیت رکھتا ہے کیونکہ یہاں مرد و خواتین دونوں نے تقریباً ایک جیسا خوف ظاہر کیا۔
سروے رپورٹ کے مطابق امریکا اور یورپ سمیت دنیا کے 44 ممالک میں 45 فیصد خواتین نے رات کے اوقات میں تنہا باہر نکلنے کو خطرناک تصور کیا اور جنسی ہراسانی یا تشدد کے خدشات کا سامنا کرنے والی خواتین کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ عالمی سطح پر مردوں میں یہ شرح 26 فیصد رہی جبکہ خواتین میں 45 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ لیکن پاکستان میں 69 فیصد مرد اور 70 فیصد خواتین نے رات کے وقت تنہا باہر نکلنے پر خوف کا اظہار کیا، جو کہ ملکی سطح پر شدید عدم تحفظ کی عکاسی کرتا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دنیا بھر میں جنسی ہراسانی کا سامنا کرنے والی خواتین کی شرح 7 فیصد سے بڑھ کر 10 فیصد ہو گئی ہے اور خاص طور پر 18 سے 24 سال کی نوجوان خواتین میں یہ شکایات 4 فیصد کے اضافے کے بعد 20 فیصد تک پہنچ گئی ہیں۔ اسی طرح، تشدد کا سامنا کرنے والی خواتین کی شرح بھی 3 فیصد اضافے کے بعد 17 فیصد ریکارڈ کی گئی جو کہ عالمی سطح پر خواتین کے لیے بڑھتے ہوئے خطرات کی نشاندہی کرتی ہے۔
ماہرین نے اس صورتحال کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگرچہ دنیا میں صنفی مساوات کے تاثر میں معمولی بہتری آئی ہے، لیکن خواتین کو اپنے تحفظ کے لیے ابھی بھی شدید چیلنجز کا سامنا ہے۔ پاکستان میں مرد و خواتین میں خوف کی تقریباً برابر شرح اس امر کا عندیہ ہے کہ شہریوں کو رات کے اوقات میں بنیادی تحفظ کی فراہمی کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔
یہ رپورٹ واضح کرتی ہے کہ خواتین کی سکیورٹی کے عالمی اعداد و شمار میں اضافہ اور نوجوان نسل کے خوف کی شدت کے پیشِ نظر معاشرتی اور حکومتی سطح پر اقدامات کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہو گئی ہے۔
