مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی پندرہواں روز بھی کم ہونے کے بجائے مزید شدت اختیار کر گئی ہے، ایران نے اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب پر میزائل حملے کردیے جس کے بعد تل ابیب میں 20 دھماکے سنے گئے جبکہ متعد دمقامات پر آگ لگ گئی۔
ایران کی عسکری تنظیم اسلامک پاسدارانِ انقلاب گارڈز (آئی آر جی سی) نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے اسرائیل کے خلاف وسیع پیمانے پر جوابی کارروائیاں شروع کر دی ہیں، صہیونی حکومت کے ایرو اسپیس مانیٹرنگ نظام کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا گیا ہے اور اب فضائی حدود کا ایک اہم حصہ ان کے کنٹرول میں ہے، شب قدر کے موقع پر ایک سے دو ٹن وزنی وار ہیڈز سے لیس 30 سپر ہیوی بیلسٹک میزائل مقبوضہ علاقوں میں مختلف اہداف پر داغے گئے، جن کے نتیجے میں اسرائیل کے کلیدی ایرو اسپیس مانیٹرنگ اور سرویلنس سسٹمز شدید نقصان کا شکار ہوئے اور کئی حصے تباہ ہو گئے۔
غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق امریکی اور اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں ایران میں ایک ہزار 348 افراد شہید اور 17 ہزار سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ ایران کی جانب سے کیے گئے جوابی حملوں میں اسرائیل میں 15 افراد ہلاک اور 2 ہزار 975 زخمی ہوئے، جبکہ امریکہ کو بھی نقصان پہنچا جس میں 15 اہلکار ہلاک اور 140 زخمی ہوئے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق وائٹ ہاؤس کے ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے مشیر ڈیوڈ سیکس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مشورہ دیا ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ کارروائیوں کو کامیاب قرار دے کر جنگ کا خاتمہ کیا جائے اور امریکہ فوراً خطے سے واپس نکل جائے، جنگ کو مزید طول دینا خطرناک نتائج کا سبب بن سکتا ہے اور امریکہ کو ایک طویل اور مہلک تنازعے میں الجھا سکتا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافے کے پیشِ نظر امریکہ نے خطے میں مزید پانچ ہزار فوجیوں کی تعیناتی کا اعلان کیا ہے، جن کے ساتھ متعدد جنگی بحری جہاز بھی بھیجے جائیں گے۔ امریکی محکمہ دفاع نے اعلان کیا کہ یہ اقدام امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کی درخواست پر اٹھایا جا رہا ہے، جس کے تحت ہزاروں امریکی میرینز کو مشرقِ وسطیٰ میں روانہ کیا جائے گا۔
میڈیا سے گفتگو کے دوران امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس نے دعویٰ کیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے پاس موجود معلومات کے مطابق ایران کے نئے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای حالیہ امریکی فضائی حملے کے نتیجے میں زخمی ہوئے ہیں، زخمی ہونے کی شدت کے بارے میں ابھی مکمل تفصیلات سامنے نہیں آئیں، تاہم اتنا ضرور معلوم ہے کہ انہیں حملے کے دوران جسمانی چوٹ پہنچی ہے۔
The United States knows that Iran’s new supreme Leader Mojtaba Khamenei was hurt in the airstrikes, Vice-President JD Vance said on Friday. “We don’t know exactly how bad, but we know that he’s hurt.” pic.twitter.com/XC1XJGNXzM
— Iran International English (@IranIntl_En) March 13, 2026
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ آج ایران پر مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ کے سب سے طاقتور حملے کیے گئے، جن کے نتیجے میں تمام مقررہ اہداف مکمل طور پر تباہ ہو گئے، میرے حکم پر امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایران کے فوجی مقامات اور خارگ جزیرہ پر بھرپور کارروائی کی، ایران کے پاس ایسی کوئی صلاحیت موجود نہیں کہ وہ امریکہ کے حملوں کا دفاع کر سکے، ایران نہ کبھی نیوکلیئر ہتھیار حاصل کر پائے گا اور نہ ہی امریکہ، مشرقِ وسطیٰ یا دنیا کے لیے کوئی خطرہ بن سکتا ہے، ایران کے مشرقِ وسطیٰ پر قبضے اور اسرائیل کو مکمل طور پر تباہ کرنے کے منصوبے اب مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں واضح کیا ہے کہ بی ٹو بمبار طیاروں کی روانگی کا مقصد طویل فاصلے سے حملہ کر کے نہ صرف ایران کی حکومت سے پیدا ہونے والے فوری خطرات کو کم کرنا ہے بلکہ مستقبل میں اس کی فوجی صلاحیتوں کو دوبارہ فعال ہونے سے روکنا بھی شامل ہے۔
B-2 stealth bombers takeoff to conduct a mission during Operation Epic Fury, delivering long-range fire to not only eliminate the threat from the Iranian regime today, but also eliminate their ability to rebuild in the future. pic.twitter.com/ebyUYNnOLo
— U.S. Central Command (@CENTCOM) March 13, 2026
nbsp;
میڈیا رپورٹس کے مطابق لبنان کی وزارت صحت نے اعلان کیا ہے کہ جنوبی لبنان کے ایک قصبے میں اسرائیلی حملے کے دوران ایک ہیلتھ سینٹر کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں کم از کم 12 طبی کارکنان جان کی بازی ہار گئے جبکہ 2 مارچ سے شروع ہونے والے ان جارحانہ کارروائیوں کے دوران مجموعی طور پر 717 افراد اپنی جانوں سے محروم ہو چکے ہیں، جن میں 100 سے زائد معصوم بچے بھی شامل ہیں جبکہ 1,793 افراد زخمی ہوئے۔
فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ خطے کے ہمسایہ ممالک کو نشانہ بنانے سے اجتناب کرے۔ تنظیم کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ موجودہ کشیدہ صورتحال میں ایسے اقدامات پورے خطے کو مزید عدم استحکام کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔ حماس نے اس بات پر زور دیا کہ تمام علاقائی ممالک ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے کشیدگی کم کرنے اور جاری جارحیت کو روکنے کے لیے مشترکہ کوششیں کریں تاکہ خطے کو مزید تباہ کن نتائج سے بچایا جا سکے۔
جاپان کی وزیر اعظم سانائے تاکائیچی اگلے ہفتے امریکا کے دو روزہ دورے پر روانہ ہوں گی، جہاں وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کریں گی اور مشرقِ وسطیٰ سمیت عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تبادلہ خیال کریں گی، تاکائیچی کے لیے یہ واشنگٹن کا پہلا دورہ ہوگا، جس میں انہوں نے گزشتہ سال وزارتِ عظمیٰ کا عہدہ سنبھالا تھا، امکان ہے کہ جمعرات کو وہ صدر ٹرمپ کے ساتھ ایک اعلیٰ سطحی سمٹ میں شرکت کریں گی۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق متحدہ عرب امارات سے اسرائیلی شہریوں کا انخلاء مکمل ہو گیا ہے، جس کے تحت دو خصوصی پروازوں کے ذریعے تقریباً 600 افراد تل ابیب پہنچا دیے گئے، یہ خصوصی فلائٹس مکمل طور پر مفت چلائی گئیں اور تمام اخراجات متحدہ عرب امارات کی حکومت نے برداشت کیے۔
عالمی میڈیا کے مطابق سعودی عرب کے پرنس سلطان ایئر بیس پر حملے کے نتیجے میں پانچ امریکی ری فیولنگ طیارے شدید نقصان کا شکار ہو گئے، یہ طیارے ایرانی میزائل حملے سے متاثر ہوئے، تاہم اس دوران کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے اور مرمت کے کام کا سلسلہ جاری ہے، اب تک کل سات امریکی ری فیولنگ طیارے مختلف حملوں میں نقصان اٹھا چکے ہیں، جس سے بیس کی آپریشنل استعداد متاثر ہوئی ہے۔
ترک میڈیا کے مطابق ترکی کے وزیرِ ٹرانسپورٹ نے اعلان کیا ہے کہ ایرانی حکام کی اجازت سے ترک ملکیت کا ایک جہاز کامیابی کے ساتھ آبنائے ہرمز سے بحفاظت گزر گیا ہے۔ تاہم موجودہ کشیدہ حالات کے پیشِ نظر اس وقت آبنائے ہرمز میں ترکی کے 15 تجارتی جہاز زیرِ نگرانی موجود ہیں اور ان کی نقل و حرکت پر قریبی نظر رکھی جا رہی ہے تاکہ ان کی واپسی اور محفوظ گزر یقینی بنائی جا سکے۔
قابلِ ذکر ہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین تیل بردار گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، لیکن خطے میں جاری کشیدگی اور ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی جنگی صورتحال کی وجہ سے یہاں جہازوں کی آمد و رفت شدید متاثر ہوئی ہے۔
