English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

 یوگی حکومت کوجھٹکا،مسجد میں نماز پر پابندی ہٹا دی گئی

القمر

نجی جائیداد پر واقع مسجد میں نماز پڑھنے پر کوئی پابندی نہیں۔ نماز پر پابندی لگانے والے انتظامیہ کے حکم کو عدالت نے منسوخ کردیا۔

الہٰ آباد:بھارتی ریاست اتر پردیش کی انتہا پسند ہندو یوگی حکومت کو جھٹکا،عدالت نے مسجد میں نماز پر پابندی ہٹادی ہے۔

 الہٰ آباد ہائی کورٹ نے بدایوں کی ایک مسجد میں نماز پر پابندی لگانے والے انتظامیہ کے حکم کو منسوخ کر دیا ہے۔

 عدالت نے کہا کہ نجی جائیداد پر واقع مسجد میں نماز پڑھنے پر کوئی پابندی نہیں ہے اور یہ حق بنیادی ہے۔

جسٹس شیکھر بی صراف اور وویک سرن کی ڈویژن بنچ نے علی شیر ودیگر کی دائر درخواست پر غور کرتے ہوئے یہ حکم جاری کیا۔

عدالت نے کہا کہ حکام کو مسجد میں نماز پڑھنے سے روکنے کی اجازت نہیں ہے۔ اگر امن و امان کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے تو حکام کو اس کا ازالہ کرنا چاہیے۔

 درخواست میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ درخواست گزار اور کمیونٹی کے دیگر افراد کو تحصیل بلسی کے گاو ¿ں بہات جاوی میں واقع وقف مسجد رضا میں نماز ادا کرنے سے نہ روکا جائے اور سکیورٹی فراہم کی جائے۔

درخواست گزار نے بتایا کہ مسجد ان کی جائیداد پر واقع ہے جس کا خسرہ نمبر 1081 (پرانا نمبر 432) ہے۔ درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ نجی املاک پر مذہبی نماز پڑھنے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ ماراناتھ فل گوسپیل منسٹریز بمقابلہ ریاست یوپی اور دیگر کے معاملہ میں، الہٰ آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ نجی املاک پر مذہبی سرگرمیوں کے لیے اجازت کی ضرورت نہیں ہے۔

واضح رہے کہ دو روز قبل ہی سنبھل ضلع کی ایک مسجد میں نماز ادا کرنے والے لوگوں کی تعداد کو محدود کرنے کے اتر پردیش حکومت کے فیصلے کو مسترد کر دیا گیا ہے۔

 جسٹس اتل شریدھرن اور سدھارتھ نندن کی بنچ نے اس معاملے میں سخت ریمارک کرتے ہوئے کہا کہ اگر مقامی انتظامیہ امن و امان برقرار رکھنے میں ناکام ہے تو سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس پی) اور ضلع کلکٹر کو یا تو استعفا دے دینا چاہیے یا سنبھل سے ٹرانسفر طلب کرنا چاہیے۔

  • ویب ڈیسک
  • Faiz alam babar

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے