تہران: ایران نے اسرائیل کے بن گوریون ایئرپورٹ کو براہ راست نشانہ بناتے ہوئے شدید میزائل حملہ کیا ہے جس کے نتیجے میں وہاں کھڑے 3 طیارے مکمل طور پر تباہ ہو گئے ہیں۔
اس حملے سے ایئرپورٹ پر موجود ہینگرز اور دیگر بنیادی تنصیبات کو بھی نقصان پہنچا۔
اسرائیلی حکام نے اس حملے کی تصدیق کرتے ہوئے تسلیم کیا کہ اگرچہ ان کے دفاعی نظام نے میزائلوں کو فضا میں روکنے کی کوشش کی، تاہم گرنے والے ملبے نے طیاروں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ایک طیارے میں ہولناک آگ بھڑک اٹھی جس پر قابو پانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر فائر بریگیڈ کی ٹیمیں طلب کی گئیں۔
واقعے کے نتیجے میں ایئرپورٹ پر شدید افراتفری دیکھی گئی اور امدادی کارروائیوں کا سلسلہ شروع کر دیا گیا۔ اس حملے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، تاہم طیاروں کے تباہ ہونے سے اسرائیلی ایوی ایشن کو بھاری مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے جو کہ ایک بڑی ناکامی ہے۔
ایرانی میزائلوں کی زد میں آ کر اسرائیل کے مختلف علاقوں میں رہائشی گھروں اور نجی گاڑیوں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ اطلاعات کے مطابق درجنوں گھر اور گاڑیاں مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں۔ اسرائیلی عوام میں جاری کشیدگی اور موجودہ جنگی صورتحال کے باعث گہرا خوف و ہراس پایا جا رہا ہے۔
ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری حالیہ کشیدگی گزشتہ 20 روز سے مسلسل شدت اختیار کر رہی ہے۔ ایران نے یہ کارروائی اسرائیلی حملوں کے جواب میں کی ہے۔ ایران کے سپریم لیڈر نے اپنے اہم رہنما علی لاریجانی کی شہادت کا بدلہ لینے کے عزم کا اعادہ کیا ہے جس کے بعد خطے میں جنگ کا دائرہ کار مزید پھیلتا دکھائی دے رہا ہے۔
واضح رہے کہ اسرائیل کی جانب سے گیس فیلڈ پر حالیہ بمباری کے بعد ایران نے اپنے حملوں میں نمایاں تیزی پیدا کر دی ہے۔
عالمی مبصرین کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان براہ راست تصادم کا یہ نیا مرحلہ مشرقِ وسطیٰ کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے جس سے علاقائی امن مکمل طور پر داؤ پر لگ چکا ہے۔
