English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

یو اے ای میں ایرانی حملوں کے بعد مہنگائی کی لہر، اشیائے ضروریہ مہنگی کرنے پر دکانداروں کو جرمانے

القمر

ایرانی حملوں کے بعد خلیجی خطے میں پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کے تناظر میں متحدہ عرب امارات کی حکومت نے بنیادی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بلا جواز اضافہ کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے تاجروں پر بھاری جرمانے عائد کر دیے ہیں، جن کی مجموعی مالیت دو لاکھ درہم سے تجاوز کر گئی ہے۔

وزارتِ معیشت و سیاحت کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق حالیہ دنوں میں خوراک اور دیگر ضروری اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کی اطلاعات موصول ہونے پر ملک بھر میں وسیع پیمانے پر نگرانی کا عمل شروع کیا گیا۔ اس سلسلے میں سات ہزار سے زائد ریٹیل آؤٹ لیٹس کا معائنہ کیا گیا، جہاں مجموعی طور پر 567 خلاف ورزیاں ریکارڈ کی گئیں۔ حکام کے مطابق ان خلاف ورزیوں کی بڑی تعداد کا تعلق اشیاء کی مقررہ حد سے زیادہ قیمت وصول کرنے سے تھا۔

وزارت نے واضح کیا کہ خطے میں کشیدگی کے باعث بعض اشیاء کی طلب میں وقتی اضافہ ضرور دیکھنے میں آیا، تاہم متعدد تاجروں، سپلائرز اور دکانداروں نے اس صورتحال کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے قیمتوں میں غیر ضروری اضافہ کیا۔ اس طرزِ عمل پر قابو پانے کے لیے متعلقہ حکام نے اب تک 449 انتباہی نوٹس جاری کیے جبکہ خلاف ورزیوں پر مجموعی طور پر 2 لاکھ 7 ہزار 250 درہم کے جرمانے بھی عائد کیے گئے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ مارکیٹ میں قیمتوں کو مستحکم رکھنے کے لیے نگرانی کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے۔ وزارت نے اس امر پر زور دیا کہ خوردنی تیل، چاول، چینی، انڈے، مرغی، دالیں، گندم اور روٹی سمیت دیگر بنیادی اشیاء کی قیمتوں میں کسی بھی قسم کا اضافہ متعلقہ وزارت اور قومی کمیٹی کی پیشگی منظوری کے بغیر ممکن نہیں ہوگا۔

ادھر وزارت کی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ گزشتہ دو روز کے دوران پیاز اور ٹماٹر کی قیمتوں میں معمولی اضافہ ضرور ریکارڈ کیا گیا، جس کی وجہ خطے میں جاری غیر معمولی حالات ہیں، تاہم اس اضافے کو قابو میں رکھنے کے لیے ان اشیاء کی وافر مقدار مارکیٹ میں فراہم کر دی گئی ہے تاکہ رسد کا نظام متاثر نہ ہو۔

وزارتِ معیشت و سیاحت نے عوام کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ملک میں بنیادی اشیائے خوردونوش کا ذخیرہ کافی حد تک موجود ہے اور کسی قسم کی قلت کا خدشہ نہیں، لہٰذا شہری بلا خوف و فکر معمول کے مطابق خریداری جاری رکھ سکتے ہیں۔

  • ویب ڈیسک
  • دانیال عدنان

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے