ایران کی جانب سے خلیج کے ایک انتہائی حساس اور عالمی تجارت کے لیے کلیدی سمجھے جانے والے آبی راستے آبنائے ہرمز کے حوالے سے نئی پالیسی پر غور جاری ہے، جس کے تحت اس راستے سے گزرنے والے بحری جہازوں پر ٹرانزٹ فیس عائد کرنے کی تجویز زیرِ بحث ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ ممکنہ اقدام ایران کی اس کوشش کا حصہ ہے جس کے ذریعے وہ اس اہم آبی گزرگاہ پر اپنے اثر و رسوخ کو مالی فوائد میں تبدیل کرنا چاہتا ہے۔ آبنائے ہرمز، جو عالمی توانائی کی ترسیل کا ایک اہم راستہ ہے، پہلے ہی سے ایران کے کنٹرول اور اثر و رسوخ کے حوالے سے عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران نے حالیہ مہینوں میں امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ کشیدگی کے دوران ان بحری جہازوں کی نقل و حرکت پر اثر انداز ہونے کی کوششیں تیز کر دی ہیں، جنہیں وہ اپنے مخالفین یا ان کے اتحادی ممالک سے منسلک قرار دیتا ہے۔ اس صورتحال نے عالمی سطح پر شپنگ اور توانائی کی ترسیل کے شعبے میں تشویش کو بڑھا دیا ہے۔
ایرانی پارلیمان کے ایک رکن کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ایک مجوزہ بل پر غور کیا جا رہا ہے جس کے تحت آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام جہازوں، خواہ وہ خوراک، توانائی یا دیگر تجارتی سامان لے جا رہے ہوں، کو ایران کو ٹول اور ٹیکس کی مد میں ادائیگی کرنا ہوگی۔ اس تجویز کو ایران کی معیشت کو مضبوط بنانے اور اس کی جغرافیائی اہمیت سے فائدہ اٹھانے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر کے قریبی مشیر محمد مخبر نے اشارہ دیا ہے کہ جنگ کے خاتمے کے بعد آبنائے ہرمز کے لیے ایک نیا انتظامی و سیکیورٹی فریم ورک متعارف کرایا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق اس نظام کے تحت ایران ان ممالک کے خلاف سمندری پابندیاں عائد کرنے کا اختیار حاصل کرے گا جو ایران پر اقتصادی یا سیاسی پابندیاں عائد کرتے ہیں۔
محمد مخبر نے مزید کہا کہ ایران اپنی اسٹریٹجک جغرافیائی پوزیشن کو بروئے کار لاتے ہوئے مغربی ممالک پر دباؤ بڑھا سکتا ہے، اور ضرورت پڑنے پر ان کے بحری جہازوں کو اس اہم آبی گزرگاہ سے گزرنے سے روکنے کے آپشن پر بھی غور کیا جا سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز سے متعلق ایران کی یہ ممکنہ حکمتِ عملی عالمی توانائی منڈیوں اور بین الاقوامی تجارت پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے، اور اس اقدام سے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔
