بیروت: اسرائیل اور امریکی افواج نے ایران اور لبنان میں اپنے اہداف کو نشانہ بناتے ہوئے تازہ حملے کیے ہیں جس کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی انتہائی خطرناک موڑ پر پہنچ چکی ہے۔
اسرائیلی حکام نے تصدیق کی ہے کہ بیروت پر یہ فضائی حملے حزب اللہ کی جانب سے اسرائیل پر کی گئی فائرنگ کا براہِ راست جواب ہیں۔ یہ کارروائیاں تہران کے حمایت یافتہ گروپوں کے خلاف سلسلہ وار کارروائیوں کا حصہ ہیں۔
دوسری جانب امریکی بحریہ نے آبنائے ہرمز میں اہم کارروائی کرتے ہوئے ایرانی ڈرونز اور بحری جہازوں کو نشانہ بنایا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو اتحادیوں پر آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے میں تعاون نہ کرنے کا الزام لگایا اور انہیں اپنی ذمہ داریوں سے فرار قرار دیا۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ خطے میں جاری اس جنگ کو تقریباً 4 ہفتے مکمل ہو چکے ہیں، جس کے نتیجے میں اب تک 2 ہزار سے زائد افراد اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔ انسانی جانوں کا یہ ضیاع عالمی امن کے لیے ایک بڑا چیلنج بن کر سامنے آیا ہے۔
جنگ کے پھیلاؤ کے خدشات کے پیشِ نظر امریکا نے خطے میں مزید ہزاروں میرینز تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس عسکری نقل و حرکت نے عالمی منڈیوں کو بھی ہلا کر رکھ دیا ہے جہاں تیل کی قیمتوں میں 50 فیصد تک غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
امریکی حکام نے جنگ کے طویل ہونے پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اس صورتحال میں عالمی طاقتیں سفارتی کوششوں کے بجائے عسکری دباؤ کو ترجیح دے رہی ہیں، جس سے خدشہ پیدا ہو گیا ہے کہ یہ تنازع بہت جلد خطے کے دیگر ممالک تک پھیل سکتا ہے۔
مستقبل قریب میں جاری یہ عسکری محاذ آرائی نہ صرف مقامی آبادی کے لیے تباہ کن ثابت ہو رہی ہے بلکہ عالمی معیشت اور توانائی کے ذرائع پر بھی اس کے گہرے اور منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں جنہیں سنبھالنا اب دنیا بھر کے لیے ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔
