English Al Qamar Urdu جون 28, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

ایران کشیدگی: نیٹو نے عراق سے اپنے فوجی اہلکاروں کا انخلا شروع کر دیا

القمر

بغداد: ایران اور خطے میں جاری شدید کشیدگی کے تناظر میں نیٹو اتحاد نے عراق سے اپنے فوجی اہلکاروں کو واپس بلانے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔

نیٹو کے اعلیٰ کمانڈر جنرل الیکسس گرینکیوچ نے تصدیق کی ہے کہ کئی سو اہلکاروں کو عراق سے نکال کر محفوظ مقام پر منتقل کیا جا چکا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق یہ فوجی اہلکار نیٹو کے اس خصوصی سیکورٹی ایڈوائزری مشن کا حصہ تھے، جس کا قیام 2018 میں عمل میں لایا گیا تھا۔ اس مشن کا بنیادی مقصد عراقی دفاعی اور سیکورٹی اداروں کو پیشہ ورانہ مشورے اور تربیت فراہم کرنا تھا تاکہ ملک میں قیام امن کو یقینی بنایا جا سکے۔

جنرل الیکسس گرینکیوچ نے کہا کہ عراق سے منتقل کیے گئے اہلکار اب مکمل طور پر محفوظ ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ نیٹو مشن اپنا کام بند نہیں کرے گا بلکہ اب مشترکہ فورس کمانڈ نیپلز کے ذریعے اپنی تمام تر فعالیت اور امور کی نگرانی کا سلسلہ بدستور جاری رکھے گا۔

یہ اہم پیش رفت عراق میں موجود برطانوی، فرانسیسی اور اطالوی فوجی اڈوں پر ایرانی حملوں کے بعد سامنے آئی ہے۔ ایران نے یہ کارروائیاں امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں کے ردعمل میں کی ہیں، جس سے مشرق وسطیٰ میں جنگ کا خطرہ مزید بڑھ گیا ہے اور عالمی سطح پر تشویش پائی جاتی ہے۔

یاد رہے کہ موجودہ صورتحال اس وقت مزید سنگین ہوئی جب اسرائیل نے ایران کے ایک قدرتی گیس فیلڈ کو نشانہ بنایا، جس کے بعد خلیجی خطے میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں میں تیزی دیکھی گئی ہے۔ ان حالات کے پیش نظر خطے میں سکیورٹی انتظامات کو ہنگامی بنیادوں پر مزید سخت کیا جا رہا ہے۔

اُدھر میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا نے بھی مشرق وسطیٰ میں اپنی عسکری موجودگی بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس حکمت عملی کے تحت 2500 اضافی میرینز اور ایک بحری حملہ آور جہاز کو خطے میں تعینات کیا جا رہا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ بڑے تنازعے سے نمٹنے کے لیے فوری تیاری مکمل ہو۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے