تہران: ایران کے نو منتخب رہبر اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے پہلے سرکاری پیغام میں پاکستان کے ساتھ گہرے اور دیرینہ تعلقات کا اعادہ کیا ہے۔ انہوں نے اپنے والد شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کی پاکستان سے خصوصی وابستگی اور لگاؤ کا کھل کر اظہار کیا ہے۔
مجتبیٰ خامنہ ای نے نو روز کے موقع پر جاری کردہ تحریری پیغام میں کہا کہ ایران اپنے مشرقی پڑوسی ممالک کے حالات کو بخوبی سمجھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے مابین بہتر تعلقات وقت کی اہم ضرورت ہیں تاکہ مسلم امہ متحد ہو سکے۔
ایرانی رہبر اعلیٰ نے اسرائیل پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صہیونی ریاست ایران اور اس کے ہمسایہ ممالک کے درمیان خلیج پیدا کرنے کے لیے سازشیں کر رہی ہے۔ اسرائیل کا مقصد خطے کے ممالک کو ایک دوسرے سے لڑا کر کمزور کرنا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ گزشتہ برسوں میں ایران کو مختلف جنگوں اور اندرونی خلفشار کا سامنا رہا ہے، لیکن دشمن اپنے عزائم میں ناکام رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کی مسلح افواج نے کبھی بھی ترکیہ یا عمان جیسے دوست ممالک کو نشانہ بنانے کا سوچا بھی نہیں ہے۔
مجتبیٰ خامنہ ای نے قوم سے اپیل کی کہ موجودہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے قومی یکجہتی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے اس سال کے لیے مزاحمتی معیشت کا نعرہ دیتے ہوئے کہا کہ متحد قوم ہی دشمن کو شکست دے کر کامیابی کی منازل طے کر سکتی ہے۔
انہوں نے اپنے والد کی موت کو ایک عظیم شہادت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران کا عزم ان کے جانے کے بعد بھی کمزور نہیں ہوا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ خطے میں امن اور استحکام کے لیے اپنے پڑوسیوں کے ساتھ مل کر اقدامات کرنے کے لیے ہر وقت تیار ہیں۔
نئے رہبر اعلیٰ کی جانب سے جاری کردہ یہ تحریری پیغام ایک اہم پیش رفت ہے، کیونکہ وہ اب تک عوامی سطح پر منظر عام پر نہیں آئے۔ ایران کی داخلی اور خارجہ پالیسی کے حوالے سے ان کے یہ بیانات آنے والے دنوں میں خطے کے بدلتے سیاسی منظر نامے کی عکاسی کرتے ہیں۔
