واشنگٹن: مشرق وسطیٰ میں جاری شدید کشیدگی اور تیل کی ترسیل میں رکاوٹوں کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔
ماہرین نے عالمی معیشت کے لیے توانائی کے تحفظ کو سب سے بڑا چیلنج قرار دیا ہے۔ بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ صورتحال عالمی اقتصادی استحکام کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔
یاد رہے کہ خام تیل کی فی بیرل قیمت 109 ڈالر کے قریب برقرار ہے، جس سے دنیا بھر میں پیداواری لاگت اور مہنگائی میں تشویشناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔
آبنائے ہرمز میں ایرانی رکاوٹوں کے باعث دنیا بھر میں تیل کی سپلائی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ اس اہم آبی گزرگاہ سے عالمی سطح پر تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل کی جاتی ہے، اس لیے یہاں پیش آنے والی ہر ہلچل براہ راست عالمی منڈیوں کو غیر مستحکم کر دیتی ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس صورتحال پر اپنے اتحادیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے نیٹو ممالک کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ وہ آبنائے ہرمز سے ایرانی فورسز کو ہٹانے کے بجائے بزدلی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے انہیں کاغذی شیر قرار دیا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ نیٹو ممالک کے لیے اس اہم تجارتی راستے کو بحال کرنا انتہائی آسان ہے مگر وہ اس ذمہ داری سے گریز کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی منڈی میں قیمتوں کا یہ اتار چڑھاؤ اور سپلائی میں رکاوٹیں اب ناقابل برداشت ہو چکی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر تیل کی قیمتیں اسی رفتار سے بڑھتی رہیں تو دنیا بھر میں ٹرانسپورٹ کے اخراجات مزید بڑھیں گے۔
اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے اگر فوری سفارتی اور عملی اقدامات نہ کیے گئے تو عالمی معیشت ایک سنگین بحران میں گھر سکتی ہے جس کے اثرات طویل مدت تک رہیں گے۔
