English Al Qamar Urdu جون 28, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

حکومت سولرائزیشن کے خلاف نہیں، متوازن پالیسی ضروری ہے، وفا قی وزیر برائے توانائی

القمر

اسلام آباد: وفا قی وزیر برائے توانائی اویس لغاری نے کہا ہے کہ حکومت سولرائزیشن کے خلاف نہیں تاہم ایک منصفانہ اور متوازن سولر پالیسی کی حامی ضرور ہے جبکہ قومی گرڈ پر صارفین کی واپسی سے اضافی بجلی کی پیداوار کے نتیجے میں 12 ارب روپے سے زائد کی بچت ممکن ہوئی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اویس لغاری نے کہا کہ غیر منظم روف ٹاپ سولر سسٹمز گرڈ اسٹیبلٹی کے لیے مسائل پیدا کرتے ہیں کیونکہ دن کے وقت شمسی توانائی کی دستیابی کے باوجود رات کے اوقات میں بجلی کی طلب پوری کرنے کے لیے گیس اور دیگر مستحکم ذرائع ناگزیر ہوتے ہیں، توانائی کے نظام کو متوازن رکھنے کے لیے مختلف ذرائع کا مؤثر امتزاج ضروری ہے۔

انہوں نے بتایا کہ قطر سے ایل این جی سپلائی میں رکاوٹوں کے باعث طلب کے بہتر انتظام کی ضرورت پیش آئی ہے جبکہ کھاد کے شعبے کو گیس کی فراہمی ترجیح رہے گی۔ اس کے نتیجے میں کمرشل اور ہائی اینڈ صارفین کے لیے عارضی پابندیاں لگائی جا سکتی ہیں، پاکستان مکمل طور پر کوئلے پر انحصار نہیں کر سکتا، اس لیے گیس پلانٹس کا کردار نہایت اہم ہے کیونکہ وہ لچکدار بجلی فراہم کرتے ہیں جبکہ کوئلہ بیس لوڈ کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔

اویس لغاری نے کہا کہ کیپٹو پاور لیوی کے نفاذ کے بعد صنعتی صارفین دوبارہ قومی گرڈ پر آئے ہیں، جس سے بجلی کی طلب میں اضافہ ہوا، سرپلس پاور پیکج کے ذریعے صنعتوں کو 12 ارب روپے سے زائد کی بچت حاصل ہوئی جو ملکی معیشت کے لیے مثبت پیش رفت ہے۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ جنوری 2026 میں بجلی کی طلب میں 12.1 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، اور ایل این جی بحران کے باوجود پاکستان کا پاور سسٹم مستحکم ہے۔ حکومت توانائی کے شعبے میں اصلاحات، نجکاری اور تھرڈ پارٹی ایکسس جیسے اقدامات پر کام کر رہی ہے تاکہ نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔

آخر میں وفاقی وزیر نے کہا کہ صارفین کو سولر اور کلین انرجی کے استعمال کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے اور حکومت کی اولین ترجیح توانائی سیکیورٹی، سسٹم کی پائیداری اور معیشت کا تسلسل برقرار رکھنا ہے تاکہ ملک کو توانائی بحران سے نکال کر ایک مستحکم مستقبل کی طرف لے جایا جا سکے۔

  • ویب ڈیسک
  • وہاج فاروقی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے