تہران: ایران کے سب سے اہم جوہری مرکز نطنز کو حالیہ حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے، جس میں ایران نے بین الاقوامی قوانین اور جوہری عدم پھیلاؤ معاہدے (NPT) کی خلاف ورزی قرار دیا ہے جبکہ اسرائیل نے اس کارروائی میں ملوث ہونے کی واضح تردید کر دی ہے۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق حملہ صبح کے وقت امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ فضائی حملے کے طور پر پیش کیا گیا، اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کارروائی میں وہ شامل نہیں تھا اور امریکا کی سرگرمیوں پر تبصرہ نہیں کر سکتا۔
حملے کے دوران نطنز کی جوہری افزودگی تنصیب کو نشانہ بنایا گیا اور بعض رپورٹس کے مطابق اس میں پہلی بار بنکر بسٹر بم استعمال کیے گئے۔ ایرانی حکام نے تصدیق کی کہ خوش قسمتی سے کسی قسم کی تابکاری خارج نہیں ہوئی اور اردگرد کے علاقوں کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوا۔ یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کے خلاف حملے میں تیزی دیکھی جا رہی ہے، اس حملے سے جوہری مواد یا انسانی جانوں کو نقصان نہیں پہنچا۔
نطنز پر یہ پہلا حملہ نہیں ہے۔ گزشتہ برس اور یکم مارچ کو بھی اس مرکز کو نشانہ بنایا گیا تھا، اور ان حملوں کے بعد تابکار مواد کے اخراج کا کوئی ریکارڈ نہیں ملا۔ یاد رہے کہ نطنز تہران سے تقریباً 220 کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع ہے اور ایران کے لیے سب سے اہم جوہری مرکز سمجھا جاتا ہے۔
گذشتہ سال جون میں امریکا نے ایران کی تین اہم جوہری تنصیبات نطنز، فردو اور اصفہان پر بمباری کی تھی، جس کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ان حملوں نے ایرانی جوہری پروگرام کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے۔ اس پس منظر میں نطنز پر حالیہ حملہ ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان بڑھتی کشیدگی کا مظہر ہے۔
ایرانی حکام نے زور دیا ہے کہ وہ اپنے جوہری پروگرام اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھیں گے۔ اس حملے کے بعد بین الاقوامی برادری نے تشویش کا اظہار کیا ہے اور کئی ممالک نے ایران سے تنازعے کے حل کے لیے سفارتی رابطے بڑھانے کی اپیل کی ہے۔ نطنز جوہری مرکز پر حملہ نہ صرف خطے میں تناؤ بڑھا سکتا ہے بلکہ عالمی سطح پر جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے پر بھی سوالات اٹھا سکتا ہے۔
