وفاقی حکومت نے عالمی سطح پر جاری معاشی اور جغرافیائی غیر یقینی صورتحال کے تناظر میں توانائی کی فراہمی کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل رکھنے کا اعادہ کیا ہے، جبکہ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات اور ایل پی جی کی بلا تعطل دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات جاری رکھنے کا عندیہ دیا گیا ہے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ دنیا اس وقت مختلف معاشی اور سیاسی چیلنجز سے گزر رہی ہے، تاہم حکومت پاکستان اس بات کے لیے پرعزم ہے کہ تیل، پیٹرول، ڈیزل اور ایل پی جی کی مسلسل فراہمی میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔ ان کے مطابق حکومت صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
وزیر خزانہ نے گفتگو کے دوران موجودہ عالمی حالات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی کہ جاری جنگی کیفیت جلد ختم ہو، تاہم انہوں نے اس امکان کو بھی رد نہیں کیا کہ یہ صورتحال آئندہ چند ہفتوں یا مہینوں تک برقرار رہ سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس نازک وقت میں قومی سطح پر اتحاد اور مشترکہ حکمت عملی کے ذریعے ہی ملک کو درپیش چیلنجز سے نکالا جا سکتا ہے۔
محمد اورنگزیب نے اس امر کی نشاندہی کی کہ ملکی وسائل محدود ہیں، اس لیے حکومت کو نہ صرف داخلی بلکہ بیرونی عوامل کے معیشت پر پڑنے والے اثرات کا بھی باریک بینی سے جائزہ لینا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ تجارتی شعبے پر ممکنہ اثرات کا تجزیہ جاری ہے اور ایسی تجاویز زیر غور ہیں جو ملک کو پائیدار ترقی کی سمت لے جا سکتی ہیں۔ ان کے مطابق آئندہ مہینوں میں، خاص طور پر اپریل تک، سپلائی کی صورتحال میں بہتری آنے کی توقع ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ وزیر اعظم کی ہدایت پر حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ عوام پر مالی بوجھ کو کم سے کم رکھا جائے۔ اس سلسلے میں حکومت نے اب تک 69 ارب روپے کا بوجھ خود برداشت کیا ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت اب ٹارگٹڈ ریلیف پالیسی کی جانب بڑھ رہی ہے، جس کے تحت مستحق اور کم آمدنی والے طبقے کے لیے ایک خصوصی ریلیف پیکج تیار کیا جا رہا ہے تاکہ انہیں مہنگائی کے اثرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔
