غزہ: اسرائیل کی جانب سے غزہ کی پٹی پر مسلسل بمباری کے نتیجے میں مزید 4 فلسطینی شہید ہو گئے ہیں۔
تازہ ترین کارروائیاں وسطی غزہ کے نصیرت کیمپ اور شمالی غزہ کے علاقوں میں کی گئیں، جن میں متعدد افراد کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔
فلسطینی وزارت صحت کے حکام نے بتایا کہ نصیرت کیمپ کے مرکزی حصے میں ایک پولیس گاڑی کو اسرائیلی فضائی حملے میں نشانہ بنایا گیا۔ اس کارروائی کے نتیجے میں 3 اہلکار موقع پر ہی شہید ہو گئے جبکہ حملے میں 2 دیگر افراد شدید زخمی بھی ہوئے ہیں۔
کچھ گھنٹوں بعد شمالی غزہ کے علاقے شیخ رادوان میں ایک اور فضائی حملہ کیا گیا، جس میں مزید شہادت کی تصدیق کی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق اس حملے میں شہید ہونے والے فلسطینی کا تعلق الفتح تنظیم سے تھا، جو مقامی سطح پر فعال رہنما تھے۔
خطے میں جاری کشیدگی کے باوجود اسرائیل کی جانب سے فوجی کارروائیوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ اگرچہ عالمی سطح پر ایران اور اسرائیل کے مابین پیدا ہونے والی کشیدگی پر توجہ مرکوز ہے، مگر زمینی حقائق یہ ہیں کہ غزہ کے باسیوں کے لیے مشکلات میں کمی نہیں آئی ہے۔
فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ کسی بھی جنگ بندی کے معاہدے کے باوجود جارحیت کا سلسلہ نہیں تھما ہے۔ اکتوبر سے اب تک جاری ان کارروائیوں میں 680 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جبکہ زخمیوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ بتائی جاتی ہے۔
بین الاقوامی برادری کی جانب سے جنگ بندی کے مطالبات کے باوجود غزہ میں صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔ اسپتالوں میں طبی سہولیات کی شدید کمی ہے اور مسلسل بمباری کے باعث امدادی ٹیموں کو بھی متاثرہ مقامات تک پہنچنے اور ریسکیو آپریشن کرنے میں سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
