تہران: ایران کی مسلح افواج نے جنوبی ساحلی علاقوں میں ملکی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے والے دشمن کے ایف-15 لڑاکا طیارے کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ جوائنٹ ایئر ڈیفنس کمانڈ نے ہرمز جزیرے کے قریب جدید دفاعی میزائل کے ذریعے اس طیارے کو ہدف بنا کر ناکارہ بنایا ہے۔
ایرانی فوج نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ اس واقعے کی مزید تفصیلات اور طیارے کی شناخت کے لیے تفتیشی عمل شروع کر دیا گیا ہے۔
یہ اقدام خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور فضائی حدود کے تحفظ کے لیے ایران کی جانب سے سخت حفاظتی پالیسی کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ ایرانی پاسداران انقلاب نے گزشتہ روز بھی ایک اہم دعویٰ کیا تھا جس میں انہوں نے بتایا کہ مرکزی فضائی حدود میں اسرائیل کے ایف-16 طیارے کو جدید فضائی نظام کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔ ان کے مطابق حالیہ کشیدگی کے دوران دشمن کے 100 سے زائد اہداف کو کامیابی سے ناکام بنایا جا چکا ہے۔
مذکورہ فضائی اہداف میں ڈرون، کروز میزائل اور مختلف اقسام کے لڑاکا طیارے شامل ہیں۔
ماضی میں ایرانی حکام نے امریکی ایف-35 اسٹیلتھ طیارے کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا، جس کے بعد ایک امریکی طیارے کو مشرق وسطیٰ کے اڈے پر ہنگامی لینڈنگ کرنا پڑی تھی۔ امریکی سینٹ کام نے تصدیق کی تھی کہ طیارہ محفوظ رہا لیکن تحقیقات جاری ہیں۔
عسکری ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے یہ اقدامات اپنی فضائی دفاعی صلاحیتوں کو ثابت کرنے کی کوشش ہیں۔ ان حملوں سے خطے کی فضائی نگرانی اور جوابی کارروائی کے نظام میں بہتری کا عندیہ ملتا ہے۔ تاحال کسی بھی دوسرے ملک نے ان دعووں پر باضابطہ طور پر کوئی تردید یا تصدیق جاری نہیں کی ہے۔
ایران نے خبردار کیا ہے کہ ملکی حدود کی کسی بھی قسم کی خلاف ورزی کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ایرانی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ وہ اپنے دفاع کے لیے ہر قسم کے جدید ہتھیاروں اور ٹیموں کو بروئے کار لانے کے لیے تیار ہیں۔ عالمی برادری اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
