امریکی سیاست اور مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہے، جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک بیان نے خطے میں جاری کشیدگی پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ٹرمپ نے انکشاف کیا ہے کہ وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ وہ ابتدائی شخصیات میں شامل تھے جنہوں نے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے آپشن کو کھل کر سپورٹ کیا، تاکہ تہران کو ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے سے روکا جا سکے۔
یہ بیان انہوں نے امریکی ریاست ٹینیسی کے شہر ممفیس میں منعقدہ ایک گول میز کانفرنس کے دوران دیا، جو عوامی تحفظ کے موضوع پر ترتیب دی گئی تھی۔ اس موقع پر ٹرمپ نے ایران کو مشرقِ وسطیٰ میں ایک دیرینہ چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے مطابق ایران کئی دہائیوں سے خطے میں عدم استحکام اور دہشت گردی کے واقعات سے جڑا رہا ہے اور اب وہ ایٹمی طاقت بننے کے قریب ہے۔
Trump blames Hegseth for the war: “Pete, I think you were the first one to speak up. You said, ‘Let’s do it.’” pic.twitter.com/QBGeFuhM1M
— Aaron Rupar (@atrupar) March 23, 2026
ٹرمپ نے اس بات پر زور دیا کہ وزیرِ دفاع سمیت کئی حکومتی شخصیات کا مؤقف واضح تھا کہ ایران کو کسی صورت ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، اور اسی سوچ کے تحت ممکنہ عسکری حکمتِ عملی پر غور کیا گیا۔
دوسری جانب امریکا اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے جاری عسکری سرگرمیوں کے حوالے سے رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ 28 فروری 2026 کو امریکا نے اسرائیل کے ساتھ مل کر ایک وسیع پیمانے پر فوجی کارروائی کا آغاز کیا تھا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق اس کارروائی کے دوران ایران میں 9 ہزار سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ 140 سے زیادہ بحری یونٹس کو بھی نقصان پہنچنے یا تباہ ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
ان کارروائیوں کے دوران جانی نقصان کے حوالے سے بھی رپورٹس سامنے آئی ہیں، جن کے مطابق اب تک 13 امریکی فوجی ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں، تاہم ان اعداد و شمار کی آزاد ذرائع سے تصدیق تاحال مکمل طور پر نہیں ہو سکی۔
اسی دوران ایک اہم پیش رفت کے طور پر صدر ٹرمپ نے ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں میں پانچ روزہ وقفے کا اعلان کیا اور دعویٰ کیا کہ تہران کے ساتھ مثبت نوعیت کی بات چیت جاری ہے۔ تاہم ایرانی حکام نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نوعیت کی براہِ راست مذاکرات کی کوئی حقیقت نہیں۔
ایرانی سفارتی حلقوں میں البتہ کچھ سرگرمیاں ضرور دیکھنے میں آئی ہیں، جہاں وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے ترکیہ کے ساتھ رابطوں کا اعتراف کیا، جبکہ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے براہِ راست مذاکرات سے متعلق خبروں کو مکمل طور پر رد کر دیا۔ اس کے برعکس بعض میڈیا رپورٹس میں یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ مختلف ذرائع کے ذریعے بالواسطہ رابطوں کی کوششیں جاری ہیں۔
ادھر امریکا کی جانب سے جاری فوجی کارروائیوں کے بعد اپنے دفاعی نظام کو مضبوط بنانے کی کوششوں میں بھی تیزی آئی ہے، جہاں ٹرمپ انتظامیہ تقریباً 200 ارب ڈالر کی خطیر رقم مختص کرنے پر غور کر رہی ہے تاکہ عسکری ذخائر کو دوبارہ مضبوط کیا جا سکے۔ یہ رقم حالیہ برسوں میں دفاعی اخراجات میں سب سے بڑی سرمایہ کاری قرار دی جا رہی ہے۔
خطے میں جاری کشیدگی کا مرکز اس وقت آبنائے ہرمز بن چکا ہے، جو عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے نہایت اہم سمجھی جاتی ہے۔ اسی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھ کر 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر چکی ہیں، جس کے اثرات عالمی معیشت پر بھی پڑ رہے ہیں۔
صورتحال کے اختتام پر ٹرمپ نے اس امید کا اظہار کیا کہ اگر مناسب حالات پیدا ہوں تو ایران کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچا جا سکتا ہے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس کے لیے باقاعدہ اور باضابطہ سفارتی عمل ناگزیر ہوگا، اور وہ اس بات کے قائل ہیں کہ ایران کو ایٹمی ہتھیاروں سے باز رکھنے کے لیے ٹھوس اقدامات ضروری ہیں۔
